پاس ہے تم کو اگر پچھلی شناسائی کا

IN Khan's picture

پاس ہے تم کو اگر پچھلی شناسائی کا
آؤ دہرائیں فسانہ شبِ تنہائی کا

حسن کو شوق ہے گر انجمن آرائی کا
آئے دیکھے وہ تماشا مری رسوائی کا

زندگی ! میں تجھے مر مر کے جئے جاتا ہوں
کچھ تو انعام دے اِس قافیہ پیمائی کا!

خود پرستی کا یہ الزام ؟عیاذ”باللہ!
میں تو اک عکس ہوں اُس جلوۂ یکتائی کا!

کیوں تجھے شام و سحر خدشۂ بدنامی ہے؟
کون سنتا ہے فسانہ ترے سودائی کا!

گریۂ نیم شبی، آہ و غمِ صبح گہی!
اور کیا ذکر ہو اُس پیکرِ زیبائی کا؟

جان سے جا کے ملی فکرِ دو عالم سے نجات
شکریہ آپ کے اعجازِ مسیحائی کا
!
کیا سمجھتے ہو تم اپنے کو، بتاؤ سرور؟
دعوہ آخر ہے یہ کس بات پہ دانائی کا؟

No votes yet