Verses

يہ تو ميں کيونکر کہوں تيرے خريداروں ميں ہوں
تو سراپا ناز ہے ميں ناز برداروں ميں ہوں

وصل کيسا تيرے ناديدہ خريداروں ميں ہوں
واہ رے قسمت کہ اس پر بھی گناہ گاروں ميں ہوں

ناتوانی سے ہے طاقت ناز اٹھانے کی کہاں
کہہ سکوں گا کيونکر کہ تيرے ناز برداروں ميں ہوں

ہائے رے غفلت! نہيں ہے آج تک اتنی خبر
کون ھے مطلوب، ميں کس کے طلب گاروں ميں ہوں

دل جگر دونوں کی لاشيں ہجر ميں ہيں سامنے
ميں کبھی اس کے ،کبھی اس کے عزاداروں ميں ہوں

وقتِ آرائش پہن کر طوق بولا وہ حسين
اب وہ آزادی کہاں ہے، ميں بھی گرفتاروں ميں ہوں

آ چکا تھا رحم اس کو سن کے ميری بے کسی
دردِ ظالم بول اٹھا، ميں اس کے غم خواروں ميں ہوں

پھول ميں پھولوں ميں ہوں، کانٹا کانٹوں ميں امير
يار ميں ياروں ميں ہوں، عيار ، عياروں ميں ہوں

Author

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer