
وہ نیلا سائبان کہیں پیچھے رہ گیا
لگتا ہے آسمان کہیں پیچھے رہ گیا
موجوں میں ڈوبتی ہوئی کشتی کا رقص دیکھ
کاغذ کا بادبان کہیں پیچھے رہ گیا
آگے غبارِ راہ کے سوا اور کچھ نہیں
منزل کا وہ نشان کہیں پیچھے رہ گیا
پنچھی قفس میں سو گیا پل بھر کے واسطے
تم کو ہوا گمان ، کہیں پیچھے رہ گیا
مچھلی تڑپ کے رہ گئی بے آب ، فرش پر
شیشے کا مرتبان کہیں پیچھے رہ گیا
جس پر ہمارے نام کی تختی لگی تھی کل
لگتا ہے وہ مکان کہیں پیچھے رہ گیا
اور اب کی بار ہم نے بھی سورج کو لکھ دیا
بادل تھا بدگمان، کہیں پیچھے رہ گیا
حیرت کو چُھو کے دل نے دھڑکنا بھلا دیا
اور بن گیا چٹان، کہیں پیچھے رہ گیا
آگے جو قافلہ گیا، رستے میں لُٹ گیا
لگتا ہے پاسبان کہیں پیچھے رہ گیا
اب کے گلاب رُت میں بھی دیکھا نہیں گلاب
خوشبو کا ترجمان کہیں پیچھے رہ گیا
جب آنکھ کھل گئی تو خبر تب ہوئی بتول
خوابوں کا تو جہان کہیں پیچھے رہ گیا