وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے

گل رعنا's picture

وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے
وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے

وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں
جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے

میں اُن کی راہ دیکھتا ہوں رات بھر
وہ روشنی دکھانے والے کیا ہوئے

یہ کون لوگ ہیں مرے ادھر اُدھر
وہ دوستی نبھانے والے کیاہوئے

وہ دل میں کھبنے والی آنکھیں کیا ہوئیں
وہ ہونٹ مسکرانے والے کیا ہوئے

عمارتیں تو جل کے راکھ ہو گئیں
عمارتیں بنانے والے کیا ہوئے

اکیلے گھر سے پوچھتی ہے بے کسی
ترا دیا جلانے والے کیا ہوئے

یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا
زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے

No votes yet