وہ درد ہے تو بڑھتا کیوں نہیں

Guest Author's picture

وہ درد ہے تو بڑھتا کیوں نہیں
اگر زخم ہے تو سِلتا کیوں نہیں
جاو میرے چارہ گر سے کہو
سفرزندگی کا یوںکٹتا کیوں نہیں
ہم قدم ہے وہ سفر میں میرے
رستہ پھر بھی سمٹتا کیو ں نہیں
سائبان نہ کوئی آنچل ہے سر پہ
بدن د ھوپ میں جلتا کیوں نہیں
محبت ا ن سے ہونی تھی سو ہو گئی
رات کٹتی نہیں دن گزرتا کیوں نہیں
وہ پوچھتے ہیں ہم سے محبت کا مزاج
دل پہ جو گزرتی ہے سمجھتا کیوں نہیں
ضمیر تو بس ضمیر ہے اس کی کیا پوچھیے
مزاج برہم کی شکایت کرتا کیوں نہیں
ضمیر آفاقی
9دسمبر دو ہزارا گیارہ

Your rating: None Average: 3.3 (3 votes)