
وہ درد ہے تو بڑھتا کیوں نہیں
اگر زخم ہے تو سِلتا کیوں نہیں
جاو میرے چارہ گر سے کہو
سفرزندگی کا یوںکٹتا کیوں نہیں
ہم قدم ہے وہ سفر میں میرے
رستہ پھر بھی سمٹتا کیو ں نہیں
سائبان نہ کوئی آنچل ہے سر پہ
بدن د ھوپ میں جلتا کیوں نہیں
محبت ا ن سے ہونی تھی سو ہو گئی
رات کٹتی نہیں دن گزرتا کیوں نہیں
وہ پوچھتے ہیں ہم سے محبت کا مزاج
دل پہ جو گزرتی ہے سمجھتا کیوں نہیں
ضمیر تو بس ضمیر ہے اس کی کیا پوچھیے
مزاج برہم کی شکایت کرتا کیوں نہیں
ضمیر آفاقی
9دسمبر دو ہزارا گیارہ