Verses

وہی حالات ابتداء سے رہے
لوگ ہم سے خفا خفا سے رہے

بے وفا تم بھی نہ تھے لیکن
یہ بھی سچ ہے کہ بے وفا سے رہے

ان چراغوں میں تیل ہی کم تھا
کیوں گلے پھر ہمیں ہوا سے رہے

بحث ، شطرنج ، شعر ، موسیقی
تم نہیں رہے تو یہ دلاسے رہے

اس کے بندوں کو دیکھ کر کہیے
ہم کو امید کیا خدا سے رہے

زندگی کی شراب مانگتے ہو
ہم کو دیکھو کہ پی کے پیاسے رہے

Author

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer