Verses

وصل ھو جائے يہيں، حشر ميں کيا رکھا ہے

آج کی بات کو کيوں کل پہ اٹھا رکھا ہے

محتسب پوچھ نہ تو شيشے ميں کيا رکھا ہے

پارسائی کا لہو اس ميں بھرا رکھا ہے

کہتے ہيں آئے جوانی تو يہ چوری نکلے

ميرے جوبن کو لڑکپن نے چرا رکھا ہے

اس تغافل میں بھی سرگرمِ ستم وہ آنکھيں

آپ تو سوتے ہيں، فتنوں کو جگا رکھا ہے

آدمي زاد ہيں دنيا کے حسيں ،ليکن امير

يار لوگوں نے پری زاد بنا رکھا ہے

Author

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer