
نیند کی جانب قدم
گنگ سانسیں
پتھروں کا ایک ڈھیر
بیلچے ہاتھوں میں تھامے بانجھ موسم کی پکار
روشنی دیوار کے اندر گئی
واپس ہوئی
ہم نشینی،رات کا پچھلا پہر
نیند کی جانب قدم
میں سمندر اوڑھ کر ساحل پہ ہوں
آنکھ کو دیمک لگی
بانس کے ویران جھنڈ
گیدڑوں کی ہاؤ ہو
بکریوں کے پیٹ سے
میمنے پیدا ہوئے اور مر گئے
بارش شب سے کلس نہلا گیا
کہکشاں رونے لگی
بد دعائیں منتقل ہونے کی گھنٹی بج گئی
سر خمیدہ شہر سیدھا ہو گیا
شاہ رگ سے دھڑکنیں رسنے لگیں
میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا
اور سمندر اوڑھ کر پھر سو گیا
RAFIQ SANDEELVI