نیند کی جانب قدم

Guest Author's picture

نیند کی جانب قدم

گنگ سانسیں
پتھروں کا ایک ڈھیر
بیلچے ہاتھوں میں تھامے بانجھ موسم کی پکار
روشنی دیوار کے اندر گئی
واپس ہوئی
ہم نشینی،رات کا پچھلا پہر
نیند کی جانب قدم
میں سمندر اوڑھ کر ساحل پہ ہوں
آنکھ کو دیمک لگی
بانس کے ویران جھنڈ
گیدڑوں کی ہاؤ ہو
بکریوں کے پیٹ سے
میمنے پیدا ہوئے اور مر گئے
بارش شب سے کلس نہلا گیا
کہکشاں رونے لگی
بد دعائیں منتقل ہونے کی گھنٹی بج گئی
سر خمیدہ شہر سیدھا ہو گیا
شاہ رگ سے دھڑکنیں رسنے لگیں
میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا
اور سمندر اوڑھ کر پھر سو گیا
RAFIQ SANDEELVI

Your rating: None Average: 5 (9 votes)