مسلط پیڑ پر جہلِ ہوا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

مسلط پیڑ پر جہل ِ ہوا تھا
ثمر پکنے سے پہلے گر رہا تھا

دورانِ آب شمعیں جل رہی تھیں
ہوا کے طاق پر پانی دھرا تھا

جڑیں تھیں سبز مائل اور باہر
شجر کا رنگ پیلا پڑ گیا تھا

ہوئے تھے چھید دستِ خاکداں میں
فلک کے پاؤں میں سوراخ سا تھا

کبھی اڑنے کی کوشش کی تو مجھکو
شکاری موسموں نے آ لیا تھا

رفیق سندیلوی