قید قفس میں مژدہ فصل بہار کیا

SadiaMuhammad's picture

قید قفس میں مژدہ فصل بہار کیا
اڑتی ہوئی خبر ہے کریں اعتبار کیا

مایوس زندگی الم رازگار کیا
جینا تو خود ہی موت ہے جینے سے عارکیا

پنہاں ہیں قہقہوں میں صدائے شکست دل
دنیا اسی کانام ہے پروردگار کیا

آئینہ جمال ہے دنیا کے رنگ و بو
آغوش کا ئنات ہے آغوش یار کیا

وعدے اور اعتبار میں ہے ربط باہمی
اس ربط باہمی کا مگر اعتبار کیا

زخم نگاہ ناز سلامت رہے شکیل
سو بار مسکرائیں ہم ایک بار کیا

No votes yet