
قید قفس میں مژدہ فصل بہار کیا
اڑتی ہوئی خبر ہے کریں اعتبار کیا
مایوس زندگی الم رازگار کیا
جینا تو خود ہی موت ہے جینے سے عارکیا
پنہاں ہیں قہقہوں میں صدائے شکست دل
دنیا اسی کانام ہے پروردگار کیا
آئینہ جمال ہے دنیا کے رنگ و بو
آغوش کا ئنات ہے آغوش یار کیا
وعدے اور اعتبار میں ہے ربط باہمی
اس ربط باہمی کا مگر اعتبار کیا
زخم نگاہ ناز سلامت رہے شکیل
سو بار مسکرائیں ہم ایک بار کیا