
قصہ ویراں ہوا جاتا ہے
دل پریشاں ہوا جاتا ہے
حرم و دیر کے جلوؤں کی قسم
کفر ایمان ہوا جاتا ہے
تاب نظارہ الہٰی توبہ
جلوہ حیراں ہوا جاتا ہے
نالہ آغوش اثر تک آ کر
خود پشیمان ہوا جاتا ہے
بے پئے شیخ فرشتہ تھا مگر
پی کے انسان ہوا جاتا ہے
دل ہے آمادہ تکمیل نشاط
غم کا سامان ہوا جاتا ہے
کچھ نہیں ہستی پروانہ مگر
بزم کی جان ہوا جاتا ہے
اللہ اللہ کہ انہیں کا پرتو
ان پہ قربان ہوا جاتا ہے
ہر ورق شرح محبت کا شکیل
اپنا دیوان ہوا جاتا ہے