فسون ِ خواب نے آنکھوں کو پتھر کر دیا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

فسون ِ خواب نے آنکھوں کو پتھر کر دیا تھا
اور اک تازہ حفاظت پر مقرر کر دیا تھا

مجھے سیرابی ء لب ناموافق پڑ گئی تھی
کسی پانی نے میرا جسم بنجر کر دیا تھا

طلسمی دھوپ نے اک مرکز ِ عصر ِرواں میں
مرے قد اور سائے کو برابر کر دیا تھا

زمیں بے شکل تھی لیکن اُسے ہموار کر کے
مرے پاؤں کی گردش نے مدور کر دیا تھا

پڑا تھا میں زمیں پر خاک کے لوندے کی صورت
اڑا کر آندھیوں نے مجھ کو بے گھر کر دیا تھا

رفیق سندیلوی