ظالم حیات، چال مِرے ساتھ چل گئی

IN Khan's picture

ظالم حیات، چال مِرے ساتھ چل گئی
صبحِ اُمید، شامِ غریباں میں ڈھل گئی

کیا اعتبارِ عمرِ گریزاں کرے کوئی
جھپکی ذرا جو آنکھ تو دنیا بدل گئی

یادوں کے ہم جلاتے بجھاتے رہے چراغ
چلئے، اِسی بہانے طبیعت بہل گئی

دنیائے نامراد میں آسودگی کہاں؟
سو اور آئیں، ایک جو حسرت نکل گئی

پھر زندگی شکارِ اُمید وفا ہوئی
پھر شمعِ انتظار سرِ شام جل گئی

تا عمر اپنی ذات سے باہر نہ جا سکے!
ا ہلِ خرد سے اُنکی خُودی چال چل گئی

سرور نے تیری یاد میں اک عمر کی تمام
اور لوگ کہہ رہے ہیں تمنا نکل گئی

No votes yet