شکاری کا لقب اُس کو ملا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

شکاری کا لقب اُس کو ملا تھا
جو چڑیوں پر نشانے باندھتا تھا

کٹورے دودھ کے بانٹے گئے تھے
زمینداروں کے گھر بیٹا ہوا تھا

لہو میں گدھ کی خصلت آگئی تھی
میں اپنے جسم کو خود نوچتا تھا

کچھ ایسا رعب تھا اُس بادشہ کا
زمیں کا پتا پتا کانپتا تھا

یتیمی شہر پر چھائی ہوئی تھی
سبھی کا باپ جیسے مر گیا تھا

رفیق سندیلوی