سماں اس دم نماز ِ ظہر کا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

سماں اس دم نماز ِ ظہر کا تھا
مرا دکھ سن کے سورج بجھ گیا تھا

بڑی شدت تھی میرے المیے میں
سمندر کا بھی پانی جل اٹھا تھا

ہوا تھا اک طلسماتی اشارہ
جہاں پر جو بھی تھا ساکن ہوا تھا

شجر آب ِ سیہ میں ڈوبتے تھے
گھنا جنگل بگولوں میں گھرا تھا

غلاف ِ گرد میں ہر شے تھی لیکن
مرا چہرہ دکھائی دے رہا تھا
رفیق سندیلوی