سرور کسی صورت تجھے آرام نہ آیا!

IN Khan's picture

سرور کسی صورت تجھے آرام نہ آیا!
دن رات کا رونا تیرے کچھ کام نہ آیا!

جو دل پہ گزرتی ہے بتائیں بھلا کیسے
کیا کیجے ہمیں ایک یہی کام نہ آیا!

اک عمر کٹی محفلِ ہستی میں ہماری
صہبائے محبت کا مگر جام نہ آیا!

کب تجھ کو رہا پاس وفا، پاسِ خموشی؟
جینے کا سلیقہ، دلِ ناکام نہ آیا!

پابندِ وفا ہو کے تجھے کیا ملا اے دل؟
سر تیرے بتا کون سا الزام نہ آیا؟

خود کامئ شوریدہ سری دل کو نہ بھائی
مومن تھے ہمیں سجدۂ اصنام نہ آیا!

وارفتہ مزاج ایسے ہوئے عشق میں ، یارو!
پھر لب پہ کبھی شکوۂ ایام نہ آیا

آغازِ محبت کے مزے یاد ہیں سرور
اُس وقت تمھیں خدشۂ انجام نہ آیا؟

No votes yet