خزاں رت اور یہ شوخیاں عجب لگتی ہیں

Guest Author's picture

خزاں رت اور یہ شوخیاں عجب لگتی ہیں
جاناں تمھارے چہرے کی پرچھائیاں عجب لگتی ہیں

جب بھی زرد پتوں کو دیکھا تو یہ احساس ہوا
گزرے بہار کی گلاب رتیں عجب لگتی ہیں

اپنے حال میں مست ہے پھر بھی پرانا شجر!
کچھ نرم و نازک ٹہنیاں عجب عجب لگتی ہیں

نیا زمانہ پھر ابر بہار بن کر آئے گا میرے آنگن میں
اس حال میں رقیبوں کی باتیں عجب لگتی ہیں

شکیل احمد چوھان

Your rating: None Average: 3.7 (6 votes)