
خزاں رت اور یہ شوخیاں عجب لگتی ہیں
جاناں تمھارے چہرے کی پرچھائیاں عجب لگتی ہیں
جب بھی زرد پتوں کو دیکھا تو یہ احساس ہوا
گزرے بہار کی گلاب رتیں عجب لگتی ہیں
اپنے حال میں مست ہے پھر بھی پرانا شجر!
کچھ نرم و نازک ٹہنیاں عجب عجب لگتی ہیں
نیا زمانہ پھر ابر بہار بن کر آئے گا میرے آنگن میں
اس حال میں رقیبوں کی باتیں عجب لگتی ہیں
شکیل احمد چوھان