حجاب اُس روز سارا اٹھ گیا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

حجاب اُس روز سارا اٹھ گیا تھا
تجھے بانہوں میں مَیں نے بھر لیا تھا

فشارِ لمس میں اُلجھی تھیں روحیں
شجر سے اژدہا لپٹا ہوا تھا

تِری شریانیں بھی جلنے لگی تھیں
مرا خوں بھی رگوں میں کھولتا تھا

بہشتی پھل دھرے تھے طشری میں
کوئی بابِ تلذذ کھل گیا تھا

تھپکتا تھا ہماری پُشت بادل
ستارہ پنڈلیاں سہلا رہا تھا

رفیق سندیلوی