Verses

جو کچھ سوجھتی ہے نئی سوجھتی ہے
ميں روتا ہوں، اس کو ہنسی سوجھتی ہے

تمہيں حور اے شيخ جی سوجھتی ہے
مجھے رشکِ حور اک پری سوجھتی ہے

يہاں تو ميری جان پر بن رہی ہے
تمہيں جان من دل لگی سوجھتی ہے

جو کہتا ہوں ان سے کہ آنکھيں ملاؤ
وہ کہتے ہيں تم کو يہہ سوجھتی ہے

يہاں تو ہے آنکھوں ميں اندھير دنيا
وہاں ان کو سرمہ مسی سوجھتی ہے

جو کی ميں نے جوبن کی تعريف، بولے
تمہيں اپنے مطلب کی ھہ سوجھتی ہے

امير ايسے ويسے تو مضموں ہيں لاکھوں
نئی بات کوئی کبھی سوجھتی ہے

Author

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer