جو بستی کی حفاظت کر رہا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

جو بستی کی حفاظت کر رہا تھا
وہی اک روز پھانسی چڑھ گیا تھا

دیے تھے جس نے کپڑے شہر بھر کو
وہی بازار میں ننگا ہوا تھا

بڑی محنت سے جس نے ہل چلائے
اسی کی فصل کو کیڑا لگا تھا

جنہوں نے بند کیں نیلام گاہیں
انہی ہاتھوں کا سودا ہو رہا تھا

جو چہرے پہلے ہی سے زشت رو تھے
انہی پر کوڑھ کا حملہ ہوا تھا

رفیق سندیلوی