جمورا خون میں نہلا گیا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

جمورا خون میں نہلا گیا تھا
مداری اپنی چھاتی پیٹتا تھا

سبھی پیروں نے مٹی چھوڑ دی تھی
اکیلا ریچھ چرخہ کاتتا تھا

ٹکا کر ڈگڈگی پر گال اپنے
خلا کی سمت بندر دیکھتا تھا

گلے کی کھردری رسی چھڑا کر
زمیں پر بکرا ٹکر مارتا تھا

کہیں اک کاٹھ کی گڑیا پڑی تھی
کہیں خیرات کا کپڑا بچھا تھا

رفیق سندیلوی