
جز نغمہ رباب وفا اور کچھ نہیں
ظالم شکست دل کی صدا اور کچھ نہیں
لذت یہی سرور یہی زندگی یہی
دل میں ہجوم غم کے سوا اور کچھ نہیں
پس منظر چمن کو ذرا غور سے تو دیکھو
جز رنگ وبو بہار میں کیا اور کچھ نہیں
آئینہ جمال حقیقت ہے کائنات
سب کچھ وہی ہیں ان کے سوا اور کچھ نہیں
پاکیزگی حسن خیالات کی قسم
سب کچھ ہے عاشقی میں ردا اور کچھ نہیں
یوں دیکھتا ہوں جلوہ نقش و نگار دہر
جیسے نظر میں ان کے سوا اور کچھ نہیں
اب ہم ہیں اور مے کدہ حسن اے شکیل
شغل اپنا مے کشی کے سوا اور کچھ نہیں