جدھر جاتے ادھر اک راستہ تھا/rafiq sandeelvi

Verses

جدھر جاتے ادھر اک راستہ تھا
تم اندھے ہو ہواؤں نے کھا تھا

زمیں،عورت،حویلی اور مویشی
سبھی کچھ غدر میں لُٹ پُٹ گیا تھا

کجاوے،باغ،جھولےاور پنگھٹ
پرانا وقت یاد آنے لگا تھا

برہنہ پشت پر لگتے تھے کوڑے
غلامی کا زمانہ آ گیا تھا

رکی تھیں گھر میں آدم خور راتیں
اندھیرا مجھکو کھانے دوڑتا تھا
رفیق سندیلوی