Verses

جاتے جاتے وہ مجھے اچھی نشانی دے گیا
عمر بھر دہراؤں گا ایسی کہانی دے گیا

اس سے میں کچھ پا سکوں ایسی کہاں امید تھی
غم بھی وہ شاید برائے مہربانی دے گیا

سب ہوائیں لے گیا میرے سمندر کی کوئی
اور مجھ کو ایک کشتی بادبانی دے گیا

خیر میں پیاسا رہا پر اس نے اتنا تو کیا
میری پلکوں کی قطاروں کو وہ پانی دے گیا

Author

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer