بھیانک رات تھی، منحوس سپنے آرہے تھے/rafiq sandeelvi

Verses

بھیانک رات تھی، منحوس سپنے آرہے تھے
فضا میں اُلوؤں کے غول آڑتے آرہے تھے

جلوس ِ ابر ماتم کر رہا تھا اور سر پہ
ستارے تعزیہ شب کا اٹھائے آرہے تھے

کبھی ٹکتی نہیں تھیں ایک پل مشعل پہ آنکھیں
کبھی پلکوں پہ مہر ِ گرم رکھے آرہے تھے

میں ہفت افلاک کی ڈھلواں چھتوں پر اُڑ رہا تھا
مرے رستے میں بادل اور تارے آرہے تھے

کسی دست ِ طلسمی نے مری کشتی الٹ دی
بدن مغلوب تھا،پانی میں غوطے آرہے تھے

رفیق سندیلوی