بغاوت کر کے وہ پچھتا رہا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

بغاوت کر کے وہ پچھتا رہا تھا
جب اس کے قد سے پانی بڑھ گیا تھا

حویلی میں چڑیلیں آ گئیں تھیں
کوئی اس رات چھت پر دوڑتا تھا

سڑک پر خون کے چھینٹے پڑے تھے
کوئی گاڑی تلے کچلا گیا تھا

میں وہ گوتم تھا جس نے جنگلوں سے
رہاست کی طرف منہ کر لیا تھا

ہوئی تھیں کُند میری پانچوں حسیں
چھٹی حس کا ہی سارا معجزہ تھا

رفیق سندیلوی