بدن کو لا کیا تھا فرض میں نے/rafiq sandeelvi

Verses

بدن کو لا کیا تھا فرض میں نے
جنوں میں کیا کیا تھا فرض میں نے

کف ِ خاکی پہ رکھ کر ایک قطرہ
اُسے دریا کیا تھا فرض میں نے

اُچھالی تھی خلا میں ایک مشعل
اور اک تارا کیا تھا فرض میں نے

شب ِ نا گفت میں ہر ایک شے کو
کوئی قصہ کیا تھا فرض میں نے

جو میرے اور افق کے درمیاں تھا
اسے پردہ کیا تھا فرض میں نے
رفیق سندیلوی