بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے

miss pinky's picture

بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے
یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے

خواب میں بھی تجھے بھولوں تو روا رکھ مجھ سے
وہ رویّہ جو ہوا کو خس و خاشاک سے ہے

بزم انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے
اور مری ساری فضیلت اسی پوشاک سے ہے

اتنی روشن ہے تری صبح کہ ہوتا ہے گماں
یہ اجالا تو کسی دیدہء نمناک سےہے

ہاتھ تو کاٹ دیئے کوزہ گروں کے ہم نے
معجزے کی وہی امید مگر چاک سے ہے

Your rating: None Average: 5 (1 vote)