الہیٰ کیا یہی ہے حاصل تقدیر انسانی

SadiaMuhammad's picture

الہیٰ کیا یہی ہے حاصل تقدیر انسانی
جدھر دیکھو پریشانی پریشانی پریشانی

جوانی کیا محبت کی یکایک شعلہ افشانی
محبت کیا ہے بس اک کافر نظر کی سحر ارزانی

بس اک ان کے نہ ہونے سے یہ بربادی یہ ویرانی
کسی نے لوٹ لی جیسے بہار بزم امکانی

تصویر ہے کہ اک شہر طلمسات بیابانی
نہ ہنگامہ نہ خاموشی نہ آبادی نہ ویرانی

مجھے سمجھا نہ اے ناصح تجھے سمجھا چکا ہوں میں
اگر اس پر بھی ظالم تو نہ سمجھے تیری نادانی

جو سچ پوچھو حقیقت میں وہی دل ہے کہ ہو جس میں
قیامت خیز جذبات محبت کی فراوانی

No votes yet