آگ ہونٹوں پہ نہ دل کی کبھی آنے دینا

siddiqui's picture

آگ ہونٹوں پہ نہ دل کی کبھی آنے دینا
پھُول مرضی کے کسی کو نہ کھلانے دینا

چکھنے دینا نہ کبھی لمحۂ موجود کا رس
جب بھی دینا ہمیں تم خواب سُہانے دینا

جس کی تعمیر میں کاوش کا مزہ اُس کو مِلے
تُم نہ بالک کو گھروندا وُہ بنانے دینا

روشنی جس کے مکینوں کو بصیرت بحشے
ایسی کٹیا میں دیا تک نہ جلانے دینا

راندۂ خلق ہے، جو پاس تمہارا نہ کرے
درس اب یہ بھی کسی اور بہانے دینا

سنگ ہو جاؤگے حق بات ہے جس میں ماجد
ایسی آواز نہ تم شہ کے سرہانے دینا

No votes yet