بنتی اگر جو بات تو کیا بات تھی جناب

Verses

غزل

شفیق خلش

کِس کِس ادا سے اُن سے نہ تھی بات کی جناب
بنتی اگر جو بات تو کیا بات تھی جناب

ہو کر جُدا نہ دے ہے تکلّف مِزاج سے
اب تک وہ گفتگو میں کریں آپ، جی، جناب

بارآور آپ پر نہ ہوں کیوں کوششیں مِری
کب تک یہ بے ثمر سی رہے آشتی جناب

جاتے نہ کیسے اُن کے بُلانے پہ ہم بھلا
موضوعِ گفتگو پہ کہا عاشقی جناب

کب تھا میں اِضطراب وغمِ ہجْر آشنا
جب تک کہ آپ سے تھی فقط دوستی جناب

جانے کہاں گئی ہے، خوشی چھوڑ کر مجھے
کل تک تو ہر قدم وہ مِرے ساتھ تھی جناب

للچائے کیوں نہ جی ہر اک اچھی سی چیز پر
شامل ہے یہ سرشت میں، ہوں آدمی جناب

پُختہ یقین ہے کہ یہ جب تک جہان ہے
گونجے گی کوبہ کو یہ مِری نغمگی جناب

احساس، رنجِ مرگ پہ غالب ہے یہ خلش
زندہ اگر نہ میں تو مِری شاعری جناب

شفیق خلش