Skip to Content

ساحر لدھیانوی

مَیں زندہ ہوں یہ مُشتہر کیجیے

مَیں زندہ ہوں یہ مُشتہر کیجیے
مِرے قاتلوں کو خبر کیجیے

زمین سخت ہے آسماں دور ہے
بسر ہو سکے تو بسر کیجیے

ستم کے بہت سے ہیں ردّعمل
ضروری نہیں چشم تر کیجیے

وہی ظُلم بارِدگر ہے تو پھر
وہی جرم بارِدگر کیجیے

قفس توڑنا بعد کی بات ہے
ابھی خواہشِ بال و پَر کیجیے

سزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریں

سزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریں
خُدا ملا ہو جنہیں وہ خدا کی بات کریں

اُنھیں پتہ بھی چلے اور وہ خفا بھی نہ ہوں
اس احتیاط سے کیا مدعا کی بات کریں

ہمارے عہد کی تہذیب میں قبا ہی نہیں
اگر قبا ہو تو بندِ قبا کی بات کریں

ہر اِک دور کا مذہب نیا خدا لایا
کریں تو ہم بھی مگر کس خدا کی بات کریں

وَفا شعار کئی ہیں، کوئی حسیں بھی تو ہو
چلو پھر، آج اسی بے وفا کی بات کریں

صدیوں سے انسان یہ سُنتا آیا ہے

صدیوں سے انسان یہ سُنتا آیا ہے
دُکھ کی دھوپ کے آگے سُکھ کا سایا ہے

ہم کو ان سَستی خوشیوں کا لوبھ نہ دو
ہم نے سوچ سمجھ کر غم اپنایا ہے

جُھوٹ تو قاتل ٹھہرا اِس کا کیا رونا
سچ نے بھی انساں کا خُوں بہایا ہے

پیدائش کے دِن سے موت کی زَد میں ہیں
اِس مقتل میں کون ہمیں لے آیا ہے

اوّل اوّل جِس دل نے برباد کیا
آخر آخر وہ دل ہی کام آیا ہے

اِتنے دن احسان کیا دیوانوں پر
جتنے دن لوگوں نے ساتھ نبھایا ہے

اہلِ دل اور بھی ہیں اہلِ وِفا اور بھی ہیں

اہلِ دل اور بھی ہیں اہلِ وِفا اور بھی ہیں
ایک ہم ہی نہیں دُنیا سے خفا اور بھی ہیں

ہم پہ ہی ختم نہیں مسلکِ شوریدہ سری
چاکِ دل اور بھی ہیں چاکِ قبا اور بھی ہیں

کیا ہُوا اگر میرے یاروں کی زبانیں چُپ ہیں
میرے شاہد میرے یاروں کے سوا اور بھی ہیں

سر سلامت ہے تو کیا سنگِ ملامت کی کمی
جان باقی ہے تو پیکانِ فضا اور بھی ہیں

مُنصفِ شہر کی وحدت پہ نہ حرف آ جائے
لوگ کہتے ہیں کہ اربابِ جفا اور بھی ہیں

طرب زادوں پہ کیا بیتی، صنم خانوں پہ کیا گُزری

طرب زادوں پہ کیا بیتی، صنم خانوں پہ کیا گُزری
دلِ زندہ! ترے مرحوم اَرمانوں پہ کیا گُزری

زمیں نے خون اُگلا آسماں نے آگ برسائی
جب انسانوں کے دل بدلے تو انسانوں پہ کیا گُزری

ہمیں یہ فکر، ان کی انجمن کس حال ہو گی!
انھیں یہ غم کہ اُن سے چھٹ کے دیوانوں پہ کیا گُزری

مِرا الحاد تو خیر ایک لعنت تھا سو ہے اَب تک
مگر اس عالمِ وحشت میں ایمانوں پہ کیا گُزری

یہ منظر کون سا منظر ہے پہچانا نہیں جاتا
سیہ خانوں سے کچھ پُوچھو شبستانوں پہ کیا گُزری

چلو وہ کفر کے گھر سے سلامت آ گئے ہیں
خُدا کی مملکت میں سوختہ جانوں پہ کیا گُزری

Syndicate content