Skip to Content

افتخار عارف

میرا مالک جب توفیق ارزانی کرتا ہے

میرا مالک جب توفیق ارزانی کرتا ہے
گہرے زرد زمیں کی رنگت دھانی کرتا ہے

بجھتے ہوئے دیئے کی لو اور بھیگی آنکھ کے بیچ
کوئی تو ہے جو خوابوں کی نگرانی کرتا ہے

مالک سے اور مٹی سے اور ماں سے باغی شخص
درد کے ہر میثاق سے روگردانی کرتا ہے

یادوں سے اور خوابوں سے اور امیدوں سے ربط
ہو جائے تو جینے میں آسانی کرتا ہے

کیا جانے کب کس ساعت میں طبع رواں ہو جائے
یہ دریا بھی بے موسم طغیانی کرتا ہے

دل پاگل ہے روز نئی نادانی کرتا ہے
آگ میں آگ ملاتا ہے پھر پانی کرتا ہے

مری مٹی سے مرے خوابوں کے رشتے محکم کرنے کے لئے

مری مٹی سے مرے خوابوں کے رشتے محکم کرنے کے لئے
اک درد مسلسل جاگتا ہے دل و جاں کو بہم کرنے کے لئے

جہاں وحشت کرنا سیکھا تھا جہاں جاں سے گزرنا سیکھا تھا
مرے آہو مجھے بلاتے ہیں اسی دشت میں رم کرنے کے لئے

وہ جو اوّل عشق کی شدت تھی وہ تو مہر دونیم کی نذر ہوئی
اب پھر اک موسم آیا ہے مجھے مستحکم کرنے کے لئے

یہ سارے ادب آدابِ ہنر یوں ہی تو نہیں آ جاتے ہیں
عمریں تج دینی پڑتی ہیں اک حرف رقم کرنے کے لئے

موت آئی اور دل کی دہلیز پہ بوسہ دے کر لوٹ گئی
مرے مہمان آئے بیٹھے تھے تازہ دم کرنے کے لئے

مرے مالک مجھ کو غنی کر دے کہ شکست کے بعد مِرا دشمن
مری تیغ کا طالب ہے مجھ سے مرے ہاتھ قلم کرنے کے لئے

سیلِ جنوں ساحل کی جانب آتا ہے

سیلِ جنوں ساحل کی جانب آتا ہے
خواب شبِ تاریک پہ غالب آتا ہے

ذرہ ہوں منسوب ہوا ہوں مہر کے ساتھ
روشن رہنا مجھ پر واجب آتا ہے

دل کی تباہی کے چھوٹے سے قصے میں
ذکر ہزار اطراف و جوانب آتا ہے

مٹی پانی آگ ہوا سب اس کے رفیق
جس کو اصولِ فرقِ مراتب آتا ہے

دل روئے اور گریے کی توفیق نہ ہو
ایسا وقت بھی عارفؔ صاحب آتا ہے

ملے تو کیسے ملے منزل خزینہء خواب

ملے تو کیسے ملے منزل خزینہء خواب
کہاں دمشق مقدر کہاں مدینہء خواب

سیاہ خانہ خوف و ہراس میں اک شخص
سنا رہا ہے مسلسل حدیث زینہء خواب

یقیں کا ورد و وظیفہ نہ اسم اعظم عشق
تو پھر یہ کیسے کھلے گا طلسم سینہء خواب

جہاں جہاں کی بھی مٹی ہمیں پسند آئی
وہاں وہاں پہ امانت کیا دفینہء خواب

خروشِ گریہء بے اختیار ایسا کیا
تڑخ کے ٹوٹ گیا رات آبگینہء خواب

شکستِ خوابِ گزشتہ پہ نوحہ خوانی ہوئی
پھر اس کے بعد سجی محفلِ شبینہء خواب

میسر آئی ہے توقیقِ شعر خوش ہوں لیں
نہ پھر یہ سیل رواں ہے نہ یہ سفینہء خواب

انیسؔ و آتشؔ و اقبالؔ سے مسلسل ہے
یہ سادہ کاری، یہ صناعی نگینہء خواب

پس گرد جادہء درد نور کا قافلہ بھی تو دیکھتے

پس گرد جادہء درد نور کا قافلہ بھی تو دیکھتے
جو دلوں سے ہو کے گزر رہا ہے وہ راستہ بھی تو دیکھتے

یہ دھواں جو ہے یہ کہاں کا ہے وہ جو آگ تھی وہ کہاں کی تھی
کبھی راویانِ خبر زدہ پسِ واقعہ بھی تو دیکھتے

یہ گلو گرفتہ و بستہء رسنِ جفا، مرے ہم قلم
کبھی جابروں کے دلوں میں خوفِ مکالمہ بھی تو دیکھتے

یہ جو پتھروں میں چھپی ہوئی ہے شبیہ، یہ بھی کمال ہے
وہ جو آئینے میں ہمک رہا ہے وہ معجزہ بھی تو دیکھتے

جو ہوا کے رخ پہ کھلے ہوئے ہیں وہ بادباں تو نظر میں ہیں
وہ جو موجِ خوں سے الجھ رہا ہے وہ حوصلہ بھی تو دیکھتے

یہ جو آبِ ذر سے رقم ہوئی ہے یہ داستان بھی مستند
وہ جو خونِ دل سے لکھا گیا ہے وہ حاشیہ بھی تو دیکھتے

میں تو خاک تھا کسی چشم ناز میں آگیا ہوں تو مہر ہوں
مرے مہرباں کبھی اک نظر مرا سلسلہ بھی تو دیکھتے

Syndicate content