بے وفائی سے پریشان بھی ہو جاتے ہیں
بے وفائی سے پریشان بھی ہو جاتے ہیں
نرم جھونکے کبھی طوفان بھی ہو جاتے ہیں
ہم نے محبوب جو ﺑﺪﻻ تو تعجب کیسا
لوگ کافر سے مسلمان بھی ہو جاتے ہیں
یوں تو اک درد کا رشتہ ہے زمانے بھر سے
لوگ ﻛﭽﻬ زیست کا عنوان بھی ہو جاتے ہیں
شہر بھر کو میں محبّت تو سکھا دوں لیکن
خود تراشے ﮨﻭﮰ بھگوان بھی ہو جاتے ہیں
ہم تو پرکھوں کی روایت کو نبھانے کے لئے
حرمت عشق پہ قربان بھی ہو جاتے ہیں
حادثہ ہو یا کوئی معجزہ شاہی ﻛﭼﻬ ہو
راستے پیار کے آسان بھی ہو جاتے ہیں
شاعر : یاسین شاہی
