Skip to Content

بے وفائی سے پریشان بھی ہو جاتے ہیں

بے وفائی سے پریشان بھی ہو جاتے ہیں
نرم جھونکے کبھی طوفان بھی ہو جاتے ہیں

ہم نے محبوب جو ﺑﺪﻻ تو تعجب کیسا
لوگ کافر سے مسلمان بھی ہو جاتے ہیں

یوں تو اک درد کا رشتہ ہے زمانے بھر سے
لوگ ﻛﭽﻬ زیست کا عنوان بھی ہو جاتے ہیں

شہر بھر کو میں محبّت تو سکھا دوں لیکن
خود تراشے ﮨﻭﮰ بھگوان بھی ہو جاتے ہیں

ہم تو پرکھوں کی روایت کو نبھانے کے لئے
حرمت عشق پہ قربان بھی ہو جاتے ہیں

حادثہ ہو یا کوئی معجزہ شاہی ﻛﭼﻬ ہو
راستے پیار کے آسان بھی ہو جاتے ہیں
شاعر : یاسین شاہی

Anonymous's picture
Tagged in: