سمندر کیا کریںگےقطرہ ﺀ شبنم چرالائیں
سمندر کیا کریںگےقطرہ ﺀ شبنم چرالائیں
جو ممکن ھو تو زخم ہجر کا مرھم چرالائیں
تمہارا ساﺘﻬ ہے تو ایک بس اپنا ہی جیوﻥ کیوں
جہاں والوں کی ساری عمر آؤ ہم چرالائیں
بہاروں کےچلےجانےخزاں آنےکا ڈر نہ ھو
کوئی ایسا محبّت کا نیا موسم چرالائیں
خبر ھو نیند کی پریوں نہ ہی خوابوں کی دیوی کو
تمھیں پلکوں کی ڈولی میں بٹھا کر ھم چرالائیں
ھمیں جذبات کے صحرا کو بھی سیراب کرنا ھے
کسی ٹوٹے ھوﺌﮯ انساں کی چشم نم چرالائیں
سدا کی مسکراہٹ ان کےہونٹوں پہ سجانے کو
چلو شاہی ذرا چپکے سے ان کےغم چرالائیں
شاعر : یاسین شاہی
