Skip to Content

میرا مالک جب توفیق ارزانی کرتا ہے

میرا مالک جب توفیق ارزانی کرتا ہے
گہرے زرد زمیں کی رنگت دھانی کرتا ہے

بجھتے ہوئے دیئے کی لو اور بھیگی آنکھ کے بیچ
کوئی تو ہے جو خوابوں کی نگرانی کرتا ہے

مالک سے اور مٹی سے اور ماں سے باغی شخص
درد کے ہر میثاق سے روگردانی کرتا ہے

یادوں سے اور خوابوں سے اور امیدوں سے ربط
ہو جائے تو جینے میں آسانی کرتا ہے

کیا جانے کب کس ساعت میں طبع رواں ہو جائے
یہ دریا بھی بے موسم طغیانی کرتا ہے

دل پاگل ہے روز نئی نادانی کرتا ہے
آگ میں آگ ملاتا ہے پھر پانی کرتا ہے

Anonymous's picture