Skip to Content

مری مٹی سے مرے خوابوں کے رشتے محکم کرنے کے لئے

مری مٹی سے مرے خوابوں کے رشتے محکم کرنے کے لئے
اک درد مسلسل جاگتا ہے دل و جاں کو بہم کرنے کے لئے

جہاں وحشت کرنا سیکھا تھا جہاں جاں سے گزرنا سیکھا تھا
مرے آہو مجھے بلاتے ہیں اسی دشت میں رم کرنے کے لئے

وہ جو اوّل عشق کی شدت تھی وہ تو مہر دونیم کی نذر ہوئی
اب پھر اک موسم آیا ہے مجھے مستحکم کرنے کے لئے

یہ سارے ادب آدابِ ہنر یوں ہی تو نہیں آ جاتے ہیں
عمریں تج دینی پڑتی ہیں اک حرف رقم کرنے کے لئے

موت آئی اور دل کی دہلیز پہ بوسہ دے کر لوٹ گئی
مرے مہمان آئے بیٹھے تھے تازہ دم کرنے کے لئے

مرے مالک مجھ کو غنی کر دے کہ شکست کے بعد مِرا دشمن
مری تیغ کا طالب ہے مجھ سے مرے ہاتھ قلم کرنے کے لئے

Anonymous's picture