Skip to Content

پس گرد جادہء درد نور کا قافلہ بھی تو دیکھتے

پس گرد جادہء درد نور کا قافلہ بھی تو دیکھتے
جو دلوں سے ہو کے گزر رہا ہے وہ راستہ بھی تو دیکھتے

یہ دھواں جو ہے یہ کہاں کا ہے وہ جو آگ تھی وہ کہاں کی تھی
کبھی راویانِ خبر زدہ پسِ واقعہ بھی تو دیکھتے

یہ گلو گرفتہ و بستہء رسنِ جفا، مرے ہم قلم
کبھی جابروں کے دلوں میں خوفِ مکالمہ بھی تو دیکھتے

یہ جو پتھروں میں چھپی ہوئی ہے شبیہ، یہ بھی کمال ہے
وہ جو آئینے میں ہمک رہا ہے وہ معجزہ بھی تو دیکھتے

جو ہوا کے رخ پہ کھلے ہوئے ہیں وہ بادباں تو نظر میں ہیں
وہ جو موجِ خوں سے الجھ رہا ہے وہ حوصلہ بھی تو دیکھتے

یہ جو آبِ ذر سے رقم ہوئی ہے یہ داستان بھی مستند
وہ جو خونِ دل سے لکھا گیا ہے وہ حاشیہ بھی تو دیکھتے

میں تو خاک تھا کسی چشم ناز میں آگیا ہوں تو مہر ہوں
مرے مہرباں کبھی اک نظر مرا سلسلہ بھی تو دیکھتے

Anonymous's picture