Skip to Content

روش میں گردش سیارگاں سے اچھی ہے

روش میں گردش سیارگاں سے اچھی ہے
زمیں کہیں کی بھی ہو آسماں سے اچھی ہے

جو حرف حق کی حمایت میں ہو وہ گمنامی
ہزار وضع کے نام و نشاں سے اچھی ہے

عجب نہیں کل اسی کی زبان کھنچی جائے
جو کہہ رہا ہے خموشی زباں سے اچھی ہے

بس ایک خوف کہیں دل یہ بات مان نہ جائے
یہ خاک غیر غمیں ہمیں آشیاں سے اچھی ہے

ہم ایسے گل زدگاں کو بہارِ یک ساعت
نگار خانہء عہد خزاں سے اچھی ہے

Anonymous's picture