مَیں زندہ ہوں یہ مُشتہر کیجیے
مِرے قاتلوں کو خبر کیجیے
زمین سخت ہے آسماں دور ہے
بسر ہو سکے تو بسر کیجیے
ستم کے بہت سے ہیں ردّعمل
ضروری نہیں چشم تر کیجیے
وہی ظُلم بارِدگر ہے تو پھر
وہی جرم بارِدگر کیجیے
قفس توڑنا بعد کی بات ہے
ابھی خواہشِ بال و پَر کیجیے