کسی کے لمس سے پہلے بدن غبار کیا/Rafiq sandeelvi

Verses

کسی کے لمس سے پہلے بدن غبار کیا
پھر اُس کے بعد جنوں کی ندی کو پار کیا

انہیں بگاڑ دیا جو صفوں کے ربط میں تھیں
جو چیزیں بکھری ہوئی تھیں انہیں قطار کیا

بنی تھین پردہ ء جا ں پر ہزار ہا شکلیں
خبر نہیں کسے چھوڑا کسے شمار کیا

اندھیری شب میں تغیر پذیر تھی ہر شے
بس ایک جسم ہی تھا جس پہ انحصار کیا

مرے مکان ِ جسد پہ مری حکومت تھی
کہ خود ہی غلبہ کیا خود ہی واگذار کیا

وجود ِ خاک تھا ،دریا سے جنگ کی میں نے
کہ سطح ِ آب کو میدان ِ کار زار کیا

کشش نے کھینچ لیا تھا زمین پر مجھکو
سو گرتے گرتے بھی میں نے خلا شکار کیا

رفیق سندیلوی

بارش کی دیوار کے پیچھے پھرتا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

بارش کی دیوار کے پیچھے پھرتا تھا
سورج سر پہ ایندھن لادے پھرتا تھا

سبز حرارت دوڑ رہی تھی پانی میں
موسم برف کے کپڑے پہنے پھرتا تھا

بیٹھ گیا تھا چاند زمیں کے پاؤں میں
اوج ِ خلا سے ناطہ توڑے پھرتا تھا

دور، کُرے پر شور مچا تھا آندھی کا
بادل کان میں انگلی ڈالے پھرتا تھا

قوس ِ قزح کا آبی خطہ آنکھوں میں
رنگوں کا دوشالہ اوڑھے پھرتا تھا

جاگ رہا تھا سایہ دھوپ کی مٹھی میں
برف کا تودہ آنکھیں موندے پھرتا تھا

سرخ بگولے پیچھے پیچھے پھرتے تھے
قطبی تارا آگے آگے پھرتا تھا

رفیق سندیلوی

جنوں کی آخری حد کیا ہے مجھکو کیا معلوم/rafiq sandeelvi

Verses

جنوں کی آخری حد کیا ہے مجھکو کیا معلوم
میں آشنائے بدن اور دست و پا معلوم

بھڑک رہی ہے مرے گرد اک طلسمی لَو
رکھا ہُوا ہے سرہانے چراغ ِ نا معلوم

فشار ِ خاک میں ہوں اور ارتکاز ِ آب
کہاں کہاں مجھے لے جائے گا خدا معلوم

میں روک دوں گا کسی روز دھڑکنیں دل کی
کروں گا مر کے کبھی راز موت کا معلوم

اندھیری رات نے پوچھا مرے بدن کا پتہ
نہیں تھا علِم مجھے ، پھر بھی کہ دیا معلوم
رفیق سندیلوی

کہاں پر ہیں مرے دیوار و در پانی نے سوچا/rafiq sandeelvi

Verses

کہاں پر ہیں مرے دیوار و در پانی نے سوچا
تھمے گا کن نشیبوں میں سفر پانی نے سوچا

کہاں تک ابر کے زنداں میں ٹھہریں گے مرے پاؤں
لپٹ کر آسماں سے رات بھر پانی نے سوچا

کبھی لہروں کو سوتا چھوڑ کر دریا سے نکلوں
قدم رکھوں کبھی صحراؤں پر پانی نے سوچا

ابھی کرنا ہے ماتم کشتیء غرقاب کا بھی
پٹخنا ہے ابھی ساحل پہ سر پانی نے سوچا

زمیں کے تین حصوں پر ہے میری حکمرانی
بنے گا خاکداں کب تک سپر پانی نے سوچا

کبھی یلغار کر دوں شب کے کالے بازؤوں پر
بجھا ڈالوں کبھی شمع ِ سحر پانی نے سوچا

رفیق سندیلوی

زمیں کی تہ میں کوئی خزانہ نہیں رہے گا/rafiq sandeelvi

Verses

زمیں کی تہ میں کوئی خزانہ نہیں رہے گا
یہ خاکدان ِ بدن توانا نہیں رہے گا

وہ ساعت ِ انہدام ہو گی کہ شش جہت میں
کسی بھی ذی روح کا ٹھکا نہ نہیں رہے گا

پڑا رہوں گا میں ایک صحرائے جسم و جاں میں
کسی طرف میرا آنا جانا نہیں رہے گا

رفیق سندیلوی

ہم آسمان کی زمام تھامے گزر رہے تھے/rafiq sandeelvi

Verses

ہم آسمان کی زمام تھامے گزر رہے تھے
فرشتے جب شانہءزمیں پر اُتر رہے تھے

ہِمیں نے براق موسموں میں وجود پایا
ہِمیں نجس رُت میں دھول بن کر بکھر رہے تھے

سماوی پتھر کہیں دہانوں پہ رُک نہ جائیں
ہم ارضی غاروں کی سمت جانے سے ڈر رہے تھے

کبھی جنم لے رہے تھے آواز ِ آئینہ میں
کبھی زنگار ِ صدا کی باہوں میں مر رہے تھے

چھپے رہے تھے کبھی اندھیرے کی برجیوں میں
کبھی سر ِ عام کنگرہء نور پر رہے تھے

کبھی پھلوں سے جھکی رہی تھیں ہماری شاخیں
کبھی سرے سے درخت ِ جاں بے ثمر رہے تھے

جہاں مَیں آب ِ سیاہ میں غرق ہو رہا تھا
اُسی جگہ سے سفید ٹیلے ابھر رہے تھے
رفیق سندیلوی

کسی منطقے سے مرا گزر نہیں ہو رہا/rafiq sandeelvi

Verses

کسی منطقے سے مرا گزر نہیں ہو رہا
کئی کوس چل کے کُھلا ، سفر نہیں ہو رہا

کوئی آسماں نہیں بن رہا مرا ہم قدم
کوئی خاکداں مرا مستقر نہیں ہو رہا

یہ عجیب شب ہے کہ ہو رہی ہے طویل تر
یہ عجیب دن ہے کہ مختصر نہیں ہو رہا

کوئی جنگ ہے جو نہیں بدن سے نہیں لڑی گئی
کوئی معرکہ ہے جو مجھ سے سر نہیں ہو رہا

رفیق سندیلوی

ارض و سما تبدیل کرے گا جادہ میرا/rafiq sandeelvi

Verses

ارض و سما تبدیل کرے گا جادہ میرا
سورج،شب اور پانی سے ہے وعدہ میرا

پیڑ،ستارے،عورت، دودھ اور میٹھی نیندیں
چھن سکتا ہے مجھ سے رزق کشادہ میرا

سات طبق،چھ جہتیں ،چاروں کھونٹ عمامہ
اور ستارہ چوغہ ، چاند لبادہ میرا

کچھ میدان سے باہر ، کچھ میدان میں ہوگا
نصف بدن اسوار اور نصف پیادہ میرا

ساری جنسوں ، سب اعداد کا موجد ہوں میں
جفت اور طاق ہیں میرے نر اور مادہ میرا

رفیق سندیلوی