دسمبر کے دنوں کا واقعہ تھا/rafiq sandeelvi

Verses

دسمبر کے دنوں کا واقعہ تھا
میں البم دیکھ کر رونے لگا تھا

گھنے پتوں میں جگنو سو گئے تھے
خمار آنکھوں میں گہری نیند کا تھا

چھما چھم دوسری بارش ہوئی تھی
میں تنہا بالکونی میں کھڑا تھا

گلے ہم مل رہے تھے کہ اچانک
دمامہ کوچ کا بجنے لگا تھا

گلوں کی خوشبوئیں باسی ہوئی تھیں
پھلوں کا ذائقہ پھیکا ہوا تھا

رفیق سندیلوی

سماں اس دم نماز ِ ظہر کا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

سماں اس دم نماز ِ ظہر کا تھا
مرا دکھ سن کے سورج بجھ گیا تھا

بڑی شدت تھی میرے المیے میں
سمندر کا بھی پانی جل اٹھا تھا

ہوا تھا اک طلسماتی اشارہ
جہاں پر جو بھی تھا ساکن ہوا تھا

شجر آب ِ سیہ میں ڈوبتے تھے
گھنا جنگل بگولوں میں گھرا تھا

غلاف ِ گرد میں ہر شے تھی لیکن
مرا چہرہ دکھائی دے رہا تھا
رفیق سندیلوی

فضا خاموش تھی وقت ِ دعا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

فضا خاموش تھی وقت ِ دعا تھا
میں قرآں کی تلاوت کر رہا تھا

لبوں پر سورہء یاسین تھی اور
مرا سینہ گرجنے لگ گیا تھا

کئی دن سے نہیں برسی تھیں آنکھیں
کہیں اندر ہی آنسو رُک گیا تھا

اُسی جانب ہی سچے راستے تھے
جدھر رُخ اونٹنی نے کر لیا تھا

قریب المرگ تھا تو اُس نے مجھکو
شفا دی تھی سکون ِ دل دیا تھا

رفیق سندیلوی

بدن کو لا کیا تھا فرض میں نے/rafiq sandeelvi

Verses

بدن کو لا کیا تھا فرض میں نے
جنوں میں کیا کیا تھا فرض میں نے

کف ِ خاکی پہ رکھ کر ایک قطرہ
اُسے دریا کیا تھا فرض میں نے

اُچھالی تھی خلا میں ایک مشعل
اور اک تارا کیا تھا فرض میں نے

شب ِ نا گفت میں ہر ایک شے کو
کوئی قصہ کیا تھا فرض میں نے

جو میرے اور افق کے درمیاں تھا
اسے پردہ کیا تھا فرض میں نے
رفیق سندیلوی

فسون ِ خواب نے آنکھوں کو پتھر کر دیا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

فسون ِ خواب نے آنکھوں کو پتھر کر دیا تھا
اور اک تازہ حفاظت پر مقرر کر دیا تھا

مجھے سیرابی ء لب ناموافق پڑ گئی تھی
کسی پانی نے میرا جسم بنجر کر دیا تھا

طلسمی دھوپ نے اک مرکز ِ عصر ِرواں میں
مرے قد اور سائے کو برابر کر دیا تھا

زمیں بے شکل تھی لیکن اُسے ہموار کر کے
مرے پاؤں کی گردش نے مدور کر دیا تھا

پڑا تھا میں زمیں پر خاک کے لوندے کی صورت
اڑا کر آندھیوں نے مجھ کو بے گھر کر دیا تھا

رفیق سندیلوی

بھیانک رات تھی، منحوس سپنے آرہے تھے/rafiq sandeelvi

Verses

بھیانک رات تھی، منحوس سپنے آرہے تھے
فضا میں اُلوؤں کے غول آڑتے آرہے تھے

جلوس ِ ابر ماتم کر رہا تھا اور سر پہ
ستارے تعزیہ شب کا اٹھائے آرہے تھے

کبھی ٹکتی نہیں تھیں ایک پل مشعل پہ آنکھیں
کبھی پلکوں پہ مہر ِ گرم رکھے آرہے تھے

میں ہفت افلاک کی ڈھلواں چھتوں پر اُڑ رہا تھا
مرے رستے میں بادل اور تارے آرہے تھے

کسی دست ِ طلسمی نے مری کشتی الٹ دی
بدن مغلوب تھا،پانی میں غوطے آرہے تھے

رفیق سندیلوی

نہیں ،اس وقت میرے پاس کوئی شے نہیں تھی/rafiq sandeelvi

Verses

نہیں ،اس وقت میرے پاس کوئی شے نہیں تھی
فقط اک خواب تھا اور ایک صبح ِ نیلمیں تھی

ستارے بجھ رہے تھے جا نماز ِ جسم و جاں پر
مگر اک کشف کی مشعل نَفَس میں جاگزیں تھی

کسی کو علم ہی کیا تھا،مری شمع ِ مسافت
زمیں جس منطقے پر ختم ہوتی تھی،وہیں تھی

بظاہر سب کے سوکھے جسم جل تھل ہو گئے تھے
مگر وہ اک فریب ِ آب تھا بارش نہیں تھی

مجھے بھی موت کا یہ تجربہ کرنا تھا اک دن
خوشی سے جان دے دی تھی کہ جان ِ اولیں تھی

رفیق سندیلوی