جواں ملکہ نے جب بیٹا جنا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

جواں ملکہ نے جب بیٹا جنا تھا
اُسی دن بادشہ اندھا ہوا تھا

محلوں میں ضیافت اڑ رہی تھی
بھکاری شہر میں بھوکا رہا تھا

نہیں تھا اُس طرف تیراک کوئی
جدھر سیلاب کا پانی بڑھا تھا

تری بیماری کے خط مل رہے تھے
میں کالج کے جھمیلوں میں پڑا تھا

میں دادا جان کی ٹوٹی لحد کو
اٹھارہ سال سے بھولا ہوا تھا

رفیق سندیلوی

مری تحریک سے پیدا ہوا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

مری تحریک سے پیدا ہوا تھا
کہ میں پُرکار تھا وہ دائرہ تھا

ہماری گائیاں ڈکرا رہی تھیں
تھنوں میں دودھ جامد ہو گیا تھا

کسی نے بت کے ٹکڑے کر دیے تھے
عبادت گاہ میں اک شور سا تھا

مری ماں مجھکو باہر ڈھونڈتی تھی
میں اپنے گھر کے ملبے میں دبا تھا

مجھے دو نیلی آنکھیں روکتی تھیں
مگر میں کالے پانی جا رہا تھا

رفیق سندیلوی

چٹانوں سے سمندر پوچھتا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

چٹانوں سے سمندر پوچھتا تھا
یہ شب کو کس کا بجرا ڈوبتا تھا

یہ کیا آواز تھی لہروں کے اندر
یہ کیسا شور موجوں میں بپا تھا

یہ کیسا ڈر لگا تھا پانیوں کو
کنارا کس لئے سہما ہوا تھا

کھلے تھے چاندنی کے بال کیونکر
ستارہ کیوں گریباں پھاڑتا تھا

یہ کیسی سسکیاں تھیں بادلوں میں
خلا میں کون دھاڑیں مارتا تھا

رفیق سندیلوی

حجاب اُس روز سارا اٹھ گیا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

حجاب اُس روز سارا اٹھ گیا تھا
تجھے بانہوں میں مَیں نے بھر لیا تھا

فشارِ لمس میں اُلجھی تھیں روحیں
شجر سے اژدہا لپٹا ہوا تھا

تِری شریانیں بھی جلنے لگی تھیں
مرا خوں بھی رگوں میں کھولتا تھا

بہشتی پھل دھرے تھے طشری میں
کوئی بابِ تلذذ کھل گیا تھا

تھپکتا تھا ہماری پُشت بادل
ستارہ پنڈلیاں سہلا رہا تھا

رفیق سندیلوی

شکاری جس جگہ مردہ پڑا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

شکاری جس جگہ مردہ پڑا تھا
وہ جنگل کا نشیبی راستہ تھا

ِادھر کھیتوں میں گیڈر رو رہے تھے
اُدھر باڑے میں کُتا بھونکتا تھا

تلاش اُس کو بھی کالے ریچھ کی تھی
مجھے بھی کوئی چیتا ڈھونڈنا تھا

اُسی کوئے کے بچے گم ہوئے تھے
جو اک چڑیا کے انڈے کھا گیا تھا

گھنے پیڑوں پہ بندر کُودتے تھے
کوئی خرگوش جھاڑی میں چھپا تھا

رفیق سندیلوی

کسی گھاٹی کے اندر جا رہا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

کسی گھاٹی کے اندر جا رہا تھا
مرے پاؤں تلے جو راستہ تھا

گھروں میں پھر بھی چوری ہو گئی تھی
اگرچہ شہر پر پہرا کڑا تھا

مری باتوں میں لکنت آگئی تھی
روانی سے مگر وہ بولتا تھا

نگر کو عاجزی کا درس دے کر
وہ خود فرعون بنتا جا رہا تھا

خطا اس سے بھی ہو سکتی تھی کوئی
خمیر اس کا بھی مٹی سے اٹھا تھا

رفیق سندیلوی

میں جس لمحے ترا دُولہا بنا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

میں جس لمحے ترا دُولہا بنا تھا
وہ لمحہ سات رنگا ہو گیا تھا

مرے کپڑے بھی اچھے لگ رہے تھے
تجھے بھی سرخ جوڑا سج رہا تھا

تری سکھیاں بھی تجھ کو چھیڑتی تھیں
مجھے بھی دوستوں کا سامنا تھا

تجھے ماں باپ رخصت کر رہے تھے
تری آنکھوں سے دریا بہ رہا تھا

قدم جب تو نے ڈولی میں رکھے تھے
ہوا میں کوئی نغمہ گھل گیا تھا

رفیق سندیلوی

جمورا خون میں نہلا گیا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

جمورا خون میں نہلا گیا تھا
مداری اپنی چھاتی پیٹتا تھا

سبھی پیروں نے مٹی چھوڑ دی تھی
اکیلا ریچھ چرخہ کاتتا تھا

ٹکا کر ڈگڈگی پر گال اپنے
خلا کی سمت بندر دیکھتا تھا

گلے کی کھردری رسی چھڑا کر
زمیں پر بکرا ٹکر مارتا تھا

کہیں اک کاٹھ کی گڑیا پڑی تھی
کہیں خیرات کا کپڑا بچھا تھا

رفیق سندیلوی

ہمیں نے سنگسار اس کو کیا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

ہمیں نے سنگسار اس کو کیا تھا
وہ زانی اس زمیں پر بوجھ سا تھا

اداسی میں نے خود تخلیق کی تھی
مجھے جو دکھ بھی تھا خود ساکتہ تھا

میں وہ ظالم تھا جس نے بچپنے میں
خود اپنے آپ کو اغوا کیا تھا

مساجد میں عبادت ہو رہی تھی
دلوں میں پھر بھی کوئی وسوسہ تھا

تری چاندی بھی میلی ہو گئی تھی
مری مے میں بھی پانی مل گیا تھا

رفیق سندیلوی

کسی کُرے پہ اُلو بولتا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

کسی کُرے پہ اُلو بولتا تھا
خلا چمگادڑوں سے بھر گیا تھا

فلک سے مکڑیاں چمٹی ہوئی تھیں
زمیں پر کیکڑا چپکا ہوا تھا

ستاروں کو بھی دیمک کھا رہی تھی
سنہرے چاند کو بھی گھن لگا تھا

کرن پر چھپکلی اوندھی پڑی تھی
نیولا روشنی سے لڑ رہا تھا

اندھیرا کیچوے کی چال چل کر
ہوا کے پیٹ میں داخل ہوا تھا

رفیق سندیلوی