بغاوت کر کے وہ پچھتا رہا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

بغاوت کر کے وہ پچھتا رہا تھا
جب اس کے قد سے پانی بڑھ گیا تھا

حویلی میں چڑیلیں آ گئیں تھیں
کوئی اس رات چھت پر دوڑتا تھا

سڑک پر خون کے چھینٹے پڑے تھے
کوئی گاڑی تلے کچلا گیا تھا

میں وہ گوتم تھا جس نے جنگلوں سے
رہاست کی طرف منہ کر لیا تھا

ہوئی تھیں کُند میری پانچوں حسیں
چھٹی حس کا ہی سارا معجزہ تھا

رفیق سندیلوی

یکایک ہیر کو غصہ چڑھا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

یکایک ہیر کو غصہ چڑھا تھا
کوئی رنگلے پلنگ پر سو رہا تھا

جسے مارا تھا اس نے چھمکیوں سے
اسے بھینسوں کا کاماں رکھ لیا تھا

اسی کے واسطے کوٹی تھی چوری
اسی کی بانسری پر سر دھنا تھا

لڑی تھی کیدو سے اس کے لئے ہی
بہت ماں باپ سے جھگڑا کیا تھا

بڑے صدمے سہے تھے اس کی خاطر
مگر ڈولی کو کھیڑا لے گیا تھا

رفیق سندیلوی

زمیں پر اژدہا پھنکارتا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

زمیں پر اژدہا پھنکارتا تھا
کوئی کاہن خلا میں گھورتا تھا

رکابی میں دھری تھیں سرخ آنتیں
پیالے میں لہو رکھا ہوا تھا

پڑا تھا دودھ خالی کھوپڑی میں
دھواں برتن کے منہ سے اٹھ رہا تھا

کہیں دیوار سے کھالیں ٹنگی تھیں
کہیں مُردے کا پنجر جھولتا تھا

کہیں چربی پگھلتی تھی چتا پر
کہیں شعلوں پہ مینڈک بھن رہا تھا

رفیق سندیلوی

خوشی محسوس ہوتی ہے، غمی محسوس ہوتی ہے

Verses

شاہین فصیح ربانی

غزل

خوشی محسوس ہوتی ہے، غمی محسوس ہوتی ہے
تو پھر کیوں برف سی دل پر جمی محسوس ہوتی ہے

کسی کے قرب نے دل کو عجب سرشاریاں بخشیں
کہیں جاؤں اسی کی ہمدمی محسوس ہوتی ہے

جن آنکھوں میں محبت کی کمی محسوس ہوتی تھی
ان آنکھوں میں دمِ رخصت نمی محسوس ہوتی ہے

یہ محویت کا عالم بھی عجب عالم ہے، مت پوچھو
تسلسل سے لگی بارش تھمی محسوس ہوتی ہے

کسی کی یاد میں آنکھیں سحر دم بھیگ جاتی ہیں
گلستاں کی ہوا بھی شبنمی محسوس ہوتی ہے

یہ کانٹوں پر چلاتی ہو، یہ کتنا ہی جلاتی ہو
مگر پھر بھی محبت ریشمی محسوس ہوتی ہے

فصیحؔ اس شخص کے ہمراہ تو صدیاں گزاری ہیں
عجب کیا ہے اگر اس کی کمی محسوس ہوتی ہے

مسلط پیڑ پر جہلِ ہوا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

مسلط پیڑ پر جہل ِ ہوا تھا
ثمر پکنے سے پہلے گر رہا تھا

دورانِ آب شمعیں جل رہی تھیں
ہوا کے طاق پر پانی دھرا تھا

جڑیں تھیں سبز مائل اور باہر
شجر کا رنگ پیلا پڑ گیا تھا

ہوئے تھے چھید دستِ خاکداں میں
فلک کے پاؤں میں سوراخ سا تھا

کبھی اڑنے کی کوشش کی تو مجھکو
شکاری موسموں نے آ لیا تھا

رفیق سندیلوی

عجب انداز سے وہ دن چڑھا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

عجب انداز سے وہ دن چڑھا تھا
میں بادل کی سواری کر رہا تھا

فضا میں گونگھرو بجنے لگے تھے
میں پریوں کے جلو میں آ رہا تھا

ہوائیں مجھکو لوری دے رہی تھی
میں پھولوں کا پنگوڑا جھولتا تھا

وہ اک بھیگی اماوس رات تھی جب
مسخر چاند میں کر لیا تھا

پہاڑ اہنی جگہ سے ہٹ گئے تھے
سمندر نے مجھے رستہ دیا تھا

رفیق سندیلوی

وہ روزِ حشر تھا یا خواب سا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

وہ روزِ حشر تھا یا خواب سا تھا
فرشتہ گرز تھامے چل رہا تھا

ترے بھی گرد تھی نارِ جہنم
مرے بھی چاروں جانب ہاویہ تھا

زباں میں کیل ٹھونکے جا رہے تھے
شکم آری سے کاٹا جا رہا تھا

مری بھی کھال کھینچی جا رہی تھی
ترا بھی جسم داغا جا رہا تھا

تجھے بھی کوئی ناگن ڈس رہی تھی
مجھے بھی کوئی بچھو کاٹتا تھا

رفیق سندیلوی

شکاری کا لقب اُس کو ملا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

شکاری کا لقب اُس کو ملا تھا
جو چڑیوں پر نشانے باندھتا تھا

کٹورے دودھ کے بانٹے گئے تھے
زمینداروں کے گھر بیٹا ہوا تھا

لہو میں گدھ کی خصلت آگئی تھی
میں اپنے جسم کو خود نوچتا تھا

کچھ ایسا رعب تھا اُس بادشہ کا
زمیں کا پتا پتا کانپتا تھا

یتیمی شہر پر چھائی ہوئی تھی
سبھی کا باپ جیسے مر گیا تھا

رفیق سندیلوی

بدن سے جو اچانک چھو گیا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

بدن سے جو اچانک چھو گیا تھا
وہ کوئی ہاتھ عزرائیل کا تھا

چراگاہوں میں بھیڑیں چر رہی تھیں
افق کے پار سورج ڈوبتا تھا

مرے ماں باپ نے میرے جنم پر
سنہری اونٹ کا صدقہ دیا تھا

صلیبوں سے مجھے وحشت ہوئی تھی
میں طبعی موت مرنا چاہتا تھا

ادھر ڈائن چھری چلکا رہی تھی
اُدھر کوٹھے پہ آدھڑ جاگتا تھا

رفیق سندیلوی

اندھیرا جیسے جیسے پھیلتا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

اندھیرا جیسے جیسے پھیلتا تھا
وہ پُراسرار ہوتا جا رہا تھا

معموں کی طرح تھے جسم اپنے
اُسے میں وہ مجھے حل کر رہا تھا

بہت گنجل تھا اس کا آئینہ بھی
مرا بھی عکس پیچیدہ ہوا تھا

پڑے تھے جھول اُس کے پانیوں میں
سقم میری بھی مٹی میں پڑا تھا

مجھے سمجھانے میں صدیاں لگی تھیں
سمجھنے میں اُسے عرصہ لگا تھا
رفیق سندیلوی