بھیانک رات تھی دریا چڑھا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

بھیانک رات تھی دریا چڑھا تھا
مگر میں تیری کشتی کھے رہا تھا

نگاہیں دھند میں ڈوبی ہوئی تھیں
کہاسا جسم پر چھایا ہوا تھا

میں اندھا یاتری بوڑھا تھا لیکن
وہ تبت کا پہاڑی سلسلہ تھا

محبت پھر ہماری جاگ اٹھی تھی
پلوں کے نیچے پانی آ گیا تھا

لہو میں چھتریاں کھلنے لگی تھیں
میں اپنی چھاؤں میں سستا رہا تھا
رفیق سندیلوی

Nahi

Verses

Trenscreation of Urdu poem in to English
Nahi
Payas haie ke bujhti hi nahe
Aas haie ke tooti hi nahe
Dara haie ke rokta hi nahi
Dawa haie k milti h nahie
Dabir Ahmed

Never
Thirst quenches never
Expectation ends never
Pain ceases not
Medicine available not

جو سیکھے تھے وہ منتر پڑھ رہا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

جو سیکھے تھے وہ منتر پڑھ رہا تھا
میں لوہے کے کڑے میں پھنس گیا تھا

بدن میں سوئیاں چبھنے لگی تھیں
عمل سارا ہی الٹا ہو گیا تھا

بھر تھے دانوں سے گودام سارے
مگر ہر پیٹ پر پتھر بندھا تھا

دعائیں مستجب ہوتی نہیں تھیں
خدا پر سے یقیں بھی اٹھ گیا تھا

گرفتِ چشم میں تھا آب ِ باراں
گھٹا میں اس کا چہرہ تیرتا تھا
رفیق سندیلوی

وہ اپنے شہر واپس جا رہا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

وہ اپنے شہر واپس جا رہا تھا
میں اس کے سامنے گم صم کھڑا تھا

یکایک ریل کی سیٹی بجی تھی
مجھے اس نے خدا حافظ کہا

کھلی کھڑکی سے تا حد ِ بصارت
وہ اپنا ہاتھ لہراتا رہا تھا

سمٹ کر چھکڑے نقطہ بن گئے تھے
سٹیشن پر میں تنہا رہ گیا تھا

اندھیری رات کے پھیلے تھے سائے
میں تکیے سے لپٹ کر رو دیا تھا

رفیق سندیلوی

خلاؤں میں معلق ہو گیا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

خلاؤں میں معلق ہو گیا تھا
مجھے اس رات جانے کیا ہوا تھا

کچھ ایسی تیز سانسیں چل رہی تھیں
منڈیروں پر دیا بجھنے لگا تھا

مرے اونٹوں کی کونچیں کاٹ کر پھر
قبیلے نے کوئی بدلہ لیا تھا

کئی کتے اچانک بھنک اٹھے تھے
گلی میں کوئی سایہ رینگتا تھا

مری ملکہ کی ساتوں بیٹیوں پر
کسی ڈائن نے جادو کر دیا تھا

رفیق سندیلوی

جو بستی کی حفاظت کر رہا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

جو بستی کی حفاظت کر رہا تھا
وہی اک روز پھانسی چڑھ گیا تھا

دیے تھے جس نے کپڑے شہر بھر کو
وہی بازار میں ننگا ہوا تھا

بڑی محنت سے جس نے ہل چلائے
اسی کی فصل کو کیڑا لگا تھا

جنہوں نے بند کیں نیلام گاہیں
انہی ہاتھوں کا سودا ہو رہا تھا

جو چہرے پہلے ہی سے زشت رو تھے
انہی پر کوڑھ کا حملہ ہوا تھا

رفیق سندیلوی

پتہ میں اس محل کا پوچھتا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

پتہ میں اس محل کا پوچھتا تھا
جہاں ہر در طلائی دھات کا تھا

جہاں کھلتے تھے غرفے دل کی جا نب
جہاں رہتا کیوپڈ دیوتا تھا

بنفشی آئینوں کی اک روش پر
ہوا کے رتھ پہ سورج گھومتا تھا

بچھی تھی فرش پر چاندی کی چادر
اور اس پر اک ستارا ناچتا تھا

جہاں فوارے تھے بارہ دری میں
جہاں پانی میں روشن قمقمہ تھا

رفیق سندیلوی

خلا میں جست بھرنا جانتا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

خلا میں جست بھرنا جانتا تھا
مگر میں پہلے زینے پر کھڑا تھا

مجھے اڑنے کی شکتی مل گئی تھی
مگر مین پیٹ کے بل رینگتا تھا

ہزاروں اونٹ میری ملکیت تھے
مگر میں پا پیادہ چل رہا تھا

مرے احکام کی تابع تھیں نیندیں
مگر میں تھا کہ شب بھر جاگتا تھا

خطابت گو مرے گھر کی تھی لونڈی
مگر میں ٹوٹے جملے بولتا تھا

رفیق سندیلوی

ستاروں کا جنازہ اُٹھ رہا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

ستاروں کا جنازہ اُٹھ رہا تھا
ہوا کے ساتھ بادل چیختا تھا

کیا تھا چاک پانی نے گریباں
اندھیرا سر میں مٹی ڈالتا تھا

پہاڑی سے نہیں اترا تھا ریوڑ
گڈریا رات بھر روتا رہا تھا

کوئی شے بھی نظر آتی نہیں تھی
مری آنکھوں پہ پردہ پڑ گیا تھا

پچھل پائی مرے پیچھے لگی تھی
میں سر پر پاؤں رکھ کر بھاگتا تھا

رفیق سندیلوی