وجود کیا ہے عدم کیا ہے کچھ نہ تھا معلوم

Verses

وجود کیا ہے عدم کیا ہے کچھ نہ تھا معلوم
میں رُوبرو تھا کسی کے ‘ تھا کون‘ کیا معلوم

یہ کائنات ہے اُس کی تو پھر ہے اپنا کیا
وہ ساتھ رہ کے بھی کیوں ہو علیحدہ معلوم

کسی سے کچھ نہ کہوں، اپنے آپ ہی میں رہوں
یہ عشق ہی کا ہو سارا کیا دھرا معلوم

اگر خیال میں تشکیک اور تضاد نہ ہو
خدا نہیں کہ خدا ہے ‘ ہو یہ ذرا معلوم

تری حیات وہی ہو تری نجات وہی
اگر تجھے ہو کبھی غم شہید کا معلوم

بہائے پیاسوں کی جانب جو پانیوں کو ظفر
روانیوں سے ہو خاص، اُس کا رابطہ معلوم

کوئی تو ترکِ مراسم پہ واسطہ رہ جائے

Verses

کوئی تو ترکِ مراسم پہ واسطہ رہ جائے
وہ ہم نوا نہ رہے صورت آشنا رہ جائے

عجب نہیں کہ مِرا بوجھ بھی نہ مُجھ سے اُٹھے
جہاں پڑا ہے زرِ جاں وہیں پڑا رہ جائے

میں سوچتا ہوں مجھے انتظار کس کا ہے
کواڑ رات کو گھر کا اگر کُھلا رہ جائے

کسے خبر کہ اسی فرش ِ سنگ پر سو جاؤں
مِرے مکاں میں بستر مرا بچھا رہ جائے

ظفر ہے بہتری اس میں کہ میں خموش رہوں
کُھلے زبان تو عزت کسی کی کیا رہ جائے

کھدائی کو کھنڈر کوئی نہیں ہے

Verses

کھدائی کو کھنڈر کوئی نہیں ہے
اب اِس مٹی میں زر کوئی نہیں ہے

خیالوں میں یہ کس کی دستکیں ہیں
اگر بیرون ِ در کوئی نہیں کوئی نہیں ہے

وہاں لوگوں کے کیا دُکھ درد ہونگے
جہاں اب نوحہ گر کوئی نہیں ہے

کسے ہے بات کہنے کا سلیقہ
اگرچہ بے ہنر کوئی نہیں ہے

جِدھر چاہو نکل جاؤ سفر کو
فصیلِ بحر و بر کوئی نہیں ہے

میں کیوں اب گھر کی تختی پر نہ لکھ دوں
یہاں صابر ظفر کوئی نہیں !!!!

گُریز پا ہے جو مجھ سے ، اُسی کے پاس بہت ہوں

Verses

گُریز پا ہے جو مجھ سے ، اُسی کے پاس بہت ہوں
میں اپنے وعدے پہ قائم ہوں ، اور اُداس بہت ہوں

یہ قید وہ ہے، کہ زنجیر بھی نظر نہیں آتی
یہ پیرہن ہے کچھ ایسا کہ بے لباس بہت ہوں

نہیں شریک ِسفر وہ ، مگر ملال بہت ہے
کہ جس مقام پہ بھی ہوں ، میں اُس کی آس بہت ہوں

خموش اس لیے رہتا ہوں ، میرے سامنے تُو ہے
میں کم سخن سہی ، لیکن نظر شناس بہت ہوں

کٹا ہے وقت ، فقط زندگی نہیں کہ ظفر میں
طلب سے اور تغافل سے ، روشناس بہت ہوں

تم اپنے گرد حصاروں کا سلسلہ رکھنا

Verses

تم اپنے گرد حصاروں کا سلسلہ رکھنا
مگر ہمارے لیے کوئی راستہ رکھنا

ہزار سانحے پردیس میں گزرتے ہیں
جو ہو سکے تو ذرا ہم سے رابطہ رکھنا

خزاں رکھے گی درختوں کو بے ثمر کب تک
گذر ہی جائے گی یہ رُت بھی، حوصلہ رکھنا

تمہارے ساتھ سدا رہ سکیں ، ضروری نہیں
اکیلے پن میں کوئی دوست دوسرا رکھنا

زیادہ دیر ظفر ظلم رہ نہیں سکتا
اگر اب آئیں دن کڑے تو جی بڑا رکھنا

بکھرتا پھول جیسے شاخ پر اچھا نہیں لگتا

Verses

بکھرتا پھول جیسے شاخ پر اچھا نہیں لگتا
محبت میں کوئی بھی عمر بھر اچھا نہیں لگتا

بکھرنے اور بھٹکنے کے لیے تنہائی کافی ہے
کوئی منزل نہ ہو تو ہمسفر اچھا نہیں لگتا

میں اس کو سوچتا کیوں ہوں اگر ندرت نہیں اس میں
میں اس کو دیکھتا کیوں ہوں اگر اچھا نہیں لگتا

اسی باعث میں تیری یادوں میں مصروف رہتا ہوں
مجھے بے دھیان رہنے کا ہنر اچھا نہیں لگتا

وہ جس کی دلکشی میں غرق ہونا چاہتا ہوں میں
وہی منظر مجھے بارِ دگر اچھا نہیں لگتا

کسی صورت تعلق کی مسافت طے تو کرنی ہے
مجھے معلوم ہے تجھ کو سفر اچھا نہیں لگتا

مرا دکھ بانٹنے والے بہت احباب ہیں میرے
رکھوں میں ساتھ کوئی نوحہ گر، اچھا نہیں لگتا

نکل کے جب میں ویرانے سے آبادی میں آیا ہوں
رہوں بے گانہء دیوار در اچھا نہیں لگتا

ہزار آوارگی ہو، بے ٹھکانہ زندگی کیا ہے
وہ انساں ہی نہیں ہے جس کو گھر اچھا نہیں لگتا

نئی تخلیق سے باقی جہاں میں حسن ہے سارا
شجر چاہے کوئی ہو، بے ثمر اچھا نہیں لگتا

وہ چاہے فصل پک جانے پہ سارے کھیت چگ جائیں
پرندوں کو کروں بے بال و پر، اچھا نہیں لگتا

ستم جو ہو رہا ہے در حقیقت وہ خدا جانے
مگر کوئی سرے سے بے خبر اچھا نہیں لگتا

وہ اک اسم مبارک دل پہ لکھنا چاہیئے جس کو
وہ پیشانی پہ لکھ تو لوں مگر اچھا نہیں لگتا

وسیلہ راستے کا چھوڑ کر منزل نہیں ملتی
خدا اچھا لگے کیا ، جب بشر اچھا نہیں لگتا

کیا ہے یہ زندگی، یہ سخن ذات ہی سے ہے

Verses

کیا ہے یہ زندگی، یہ سخن ذات ہی سے ہے
اپنا معاملہ تو خیالات ہی سے ہے

دن بھر تو مجھ کو رونق ِدنیا رکھے بحال
دل جو بُجھا ہوا ہے، فقط رات ہی سے ہے

مضمون باندھنے کا بہت شوق ہے مجھے
اور اس کا واسطہ میرے جذبات ہی سے ہے

اِس برتری میں کوئی تکبر ہو ،کیا مجال!
اپنی غرض تو صرف تیری مات ہی سے ہے

ہم جو ظفر کسی نہ کسی کے اثر میں ہیں
وابستگی ہماری طلسمات ہی سے ہے

میں جس کے ساتھ ظفر عمر بھر اٹھا بیٹھا

Verses

میں جس کے ساتھ ظفر عمر بھر اٹھا بیٹھا
وہ جانے آج ہے کیوں اجنبی بنا بیٹھا

شکایت اس سے نہیں اپنے آپ سے ہے مجھے
وہ بے وفا تھا تو میں آس کیوں لگا بیٹھا

جو میرے واسطے بنیاد تھا محبت کی!
میں اس خیال کی دیوار ہی گِرا بیٹھا

ملا وہ رات مجھے محفلِ مسرت میں
تو میں ادب سے نہیں ، دکھ سے دُور جا بیٹھا

طفر بتاؤ اسے ہاتھ کیا لگا سکتا!
جسے میں دیکھ کے بینائی ہی گنوا بیٹھا

کبھی فلک کو پڑا دل جلوں سے کام نہیں

Verses

کبھی فلک کو پڑا دل جلوں سے کام نہیں
اگر نہ آگ لگادوں تو داغ نام نہیں

وفور یاس نے یہاں کام ہے تمام کیا
زبان یار سے نکلی تھی نا تمام نہیں

وہ کاش وصل کے انکار پر ہی قائم ہوں
مگر انہیں تو کسی بات پر قیام نہیں

الہٰی تو نے حسینوں کو کیوں کیا پیدا
کچھ ان کی ذات سے دنیا کا انتظام نہیں

سنائی جاتی ہیں در پردہ گالیاں مجھ کو
جو میں کہوں تو کہیں آپ سے کلام نہیں

وہ آئیں گے شب وعدہ، یقیں نہیں اے دل
چراغ گھی کے جلاؤں ، یہ ایسی شام نہیں

سوائے جور و جفا، ماورائے بغض و دغا
بتوں کے واسطے دنیا میں کوئی کام نہیں

پیئوں ، پلاؤں تجھے، دور ہی سے ترساؤں
یہ روز عید ہے زاہد، مہ صیام نہیں

دباؤ کیا ہے، سنے وہ جو آپ کی باتیں
رئیس زادہ ہے داغ، آپ کا غلام نہیں

پھرا ہوا جو کسی کی نظر کو دیکھتے ہیں

Verses

پھرا ہوا جو کسی کی نظر کو دیکھتے ہیں
لگا کے تیر ہم اپنے جگر کو دیکھتے ہیں

نظر چرا کے وہ یوں ہر جگر کو دیکھتے ہیں
کسی کو یہ نہیں ثابت کدھر کو دیکھتے ہیں

بنے ہوئے ہیں وہ محفل میں صورتِ تصویر
ہر ایک کو یہ گمان ہے ، اِدھر کو دیکھتے ہیں

فروغِ ماہ کہاں یہ شبِ جدائی میں
چراغ لے کے فرشتے سحر کو دیکھتے ہیں

تمہارے پاس کہیں بھول کر نہ آیا ہو
ہمیں تلاش ہے ،ہم نامہ بر کو دیکھتے ہیں

ہمیں گمان یہ ہوتا ہے، ہم کو روتا ہے
کسی جگہ جو کسی نوحہ گر کو دیکھتے ہیں

خیالِ بعدِ فنا بھی ہے دوست دشمن کا
ہم آنکھ بند کئے ہر بشر کو دیکھتے ہیں

الہٰی آج ہی پورا ہو وعدہء دیدار
نہیں تو اور کسی جلوہ گر کو دیکھتے ہیں

بنی ہوئی ہے لفافے پہ خط کی آنکھ اپنی
قدم قدم روش ِنامہ بر کو دیکھتے ہیں

مقامِ رشک ہوا عرصہء قیامت بھی
تجھی کو دیکھتا ہے ،جس بشر کو دیکھتے ہیں

یہ شک ہے تنِ لاغر سے ناتوانوں کے
وہ کھینچ کھینچ کے اپنی کمر کو دیکھتے ہیں

بتوں کے واسطے دنیا نہیں ہے جنت ہے
بہشت دیکھتے ہیں،جس کے گھر کو دیکھتے ہیں

حیا تو دیکھئے، آئینے سے بھی پردہ ہے
وہ اپنے ہاتھ سے پہلے سحر کو دیکھتے ہیں

خدا کرے سر محشر وہ بت ہو بےپردہ
کہ ہم بھی دیکھتے ہیں، سب کدھر کو دیکھتے ہیں

نکل نہ آئے کہیں داغِ آرزو، ڈر ہے
وہ چیر کر مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں

کسی سے کچھ نہیں مطلب کہ دیکھنے والے
تمہاری آنکھ، تمہاری نظر کو دیکھتے ہیں

سکندر آئینہ اے داغ جامِ جم دیکھے
ہم اپنے خسرو والا گھر کو دیکھتے ہیں