میں تو ہوں اک سیپ کا موتی، بیچ سمندر رہنا تھا

Verses

میں تو ہوں اک سیپ کا موتی، بیچ سمندر رہنا تھا
آبِ رواں سے تاب بڑھی تھی، طوفانوں کو سہنا تھا

دیکھ رہی ہوں خون کا دریا، ڈھونڈ رہی ہوں قاتل کو
میں نے خود کو قتل کیا ہے، یہ مقتول کا کہنا تھا

آنکھوں میں چبھتی رہتی ہیں، کرچیں ٹوٹے خوابوں کی
کرب نہ سہہ پائیں جب آنکھیں، اشکوں کو تو بہنا تھا

میری فصیلِ جاں تو کب سے، زخموں سے مسمار ہوئی
ڈھلتی عمر کا ڈھلتا سورج، ڈھلتی عمر کا گہنا تھا

آؤ میرے پاس بھی بیٹھو، دکھ سکھ اپنا بانٹیں ہم
کچھ باتیں مجھ کو کرنی ہیں، کچھ تم کو بھی کہنا تھا

سبب کھلا یہ ہمیں ان کے منہ چھپانے کا

Verses

سبب کھلا یہ ہمیں ان کے منہ چھپانے کا
اڑا نہ لے کوئی انداز مسکرانے کا

طریقِ خوب ہے یہ عمر کے بڑھانے کا
کہ منتظر رہوں تا حشر اس کے آنے کا

چڑھاؤ پھول مری قبر پر جو آئے ہو
کہ اب زمانہ گیا تیوری چڑھانے کا

وہ عذر ِجرم کو بدتر گناہ سے سمجھے
کوئی محل نہ رہا اب قسم کھانے کا

بہ تنگ آکے جو کی میں نے ترک رسمِ وفا
ہر اک سے کہتے ہیں یہ حال ہے زمانے کا

جفائیں کرتے ہیں تھم تھم کے اس خیال سے وہ
گیا تو پھر نہیں یہ میرے ہاتھ آنے کا

نہ سوچے ہم کہ تہِ تیغ ہوگی خلق اللہ
گھٹا نہ حوصلہ قاتل کے دل بڑھانے کا

اثر ہے اب کے مئے تند میں وہ اے زاہد
کہ نقشہ تک بھی نہ اترے شراب خانے کا

سمائیں اپنی نگاہوں میں ایسے ویسے کیا
رقیب ہی سہی، ہو آدمی ٹھکانے کا

لگی ہے چاٹ مجھے تلخیء محبت کی
علاج زہر سے مشکل ہے زہر کھانے کا

تمہیں رقیب نے بھیجا کھلا ہوا پرچہ
نہ تھا نصیب لفافہ بھی آدھ آنے کا

لگی ٹھکانے سے بلبل کی خانہ بربادی
چراغ ِگل میں بھی تنکا ہے آشیانے کا

خطا معاف، تم اے داغ اور خواہشِ وصل
قصور ہے یہ فقط ان کے منہ لگانے کا

تارا تارا اُتر رہی ہے رات سمندر میں

Verses

تارا تارا اُتر رہی ہے رات سمندر میں
جیسے ڈوبنے والوں کے ہوں ہاتھ سمندر میں

ساحل پر تو سب کے ہوں گے اپنے اپنے لوگ
رہ جائے گی کشتی کی ہر بات سمندر میں

ایک نظر دیکھا تھا اُس نے آگے یاد نہیں
کُھل جاتی ہے دریا کی اوقات سمندر میں

میں ساحل سے لوٹ آیا تھا کشتی چلنے پر
پگھل چکی تھی لیکن میری ذات سمندر میں

کاٹ رہا ہوں ایسے امجد یہ ہستی کی رہ
بے پتواری ناؤ پہ جیسے رات سمندر میں

قاصد جو تھا بہار کا نا معتبر ہُوا

Verses

قاصد جو تھا بہار کا نا معتبر ہُوا
گلشن میں بندوبست برنگِ دِگر ہُوا

خواہش جو شاخِ حرف پہ چٹکی، بکھر گئی
آنسو جو دِل میں بند رہا، وہ گُہر ہُوا

اِک منحرف گواہ کی صُورت، چراغِ شام
اُس کی گلی میں رات مرا ہم سفر ہوا

آواز کیا کہ شکل بھی پہچانتا نہیں
غافل ہمارے حال سے وہ اِس قدر ہوا

عُمرِ رواں کے رخت میں ایسا نہیں کوئی
جو پَل تُمہاری یاد سے باہر، بسر ہُوا

خوشبو تھی جو خیال میں، رزقِ اَلم ہُوئی
جو رنگِ اعتبار تھا، گردِ سفر ہُوا

دل کی گلی میں حدّنظر تک تھی روشنی
کرنیں سفیر، چاند ترا نامہ بر ہُوا

تارے مِرے وکیل تھے، خوشبو تِری گواہ
کل شب عجب معاملہ، پیشِ نظر ہُوا

امجد اگر وہ دورِ جنوں جاچُکا، تو پھر
لہجے میں کیوں یہ فرق کسی نام پر ہُوا

یہ گردبادِ تمنا میں گھومتے ہوئے دن

Verses

یہ گردبادِ تمنا میں گھومتے ہوئے دن
کہاں پہ جا کے رُکیں گے یہ بھاگتے ہوئے دن

غروب ہوتے گئے رات کے اندھیروں میں
نویدِ امن کے سورج کو ڈھونڈتے ہوئے دن

نجانے کون خلا کے یہ استعارے ہیں
تمہارے ہجر کی گلیوں میں گونجتے ہوئے دن

نہ آپ چلتے ، نہ دیتے ہیں راستہ ہم کو
تھکی تھکی سی یہ شامیں یہ اونگھتے ہوئے دن

پھر آج کیسے کٹے گی پہاڑ جیسی رات
گزر گیا ہے یہی بات سوچتے ہوئے دن

تمام عمر مرے ساتھ ساتھ چلتے رہے
تمہی کو ڈھونڈتے تم کو پکارتے ہوئے دن

ہر ایک رات جو تعمیر پھر سے ہوتی ہے
کٹے گا پھر وہی دیوار چاٹتے ہوئے دن

مرے قریب سے گزرے ہیں بار ہا امجد
کسی کے وصل کے وعدے کو دیکھتے ہوئے دن

جو آنسو دل میں گرتے ہیں وہ آنکھوں میں نہیں رہتے

Verses

جو آنسو دل میں گرتے ہیں وہ آنکھوں میں نہیں رہتے
بہت سے حرف ایسے ہیں جو لفظوں میں نہیں رہتے

کتابوں میں لکھے جاتے ہیں دُنیا بھر کے افسانے
مگر جن میں حقیقت ہو کتابوں میں نہیں رہتے

بہار آئے تو ہر اک پھول پر اک ساتھ آتی ہے
ہوا جن کا مقدر ہو وہ شاخوں میں نہیں رہتے

لیے پھرتے ہیں کچھ احباب ایسے مضطرب سجدے
جہاں دربار مل جائے جبینوں میں نہیں رہتے

مہک اور تتلیوں کا نام بھونرے سے جُدا کیوں ہے
کہ یہ بھی تو خزاں آنے پہ پھولوں میں نہیں رہتے

چپکے چپکے جل جاتے ہيں لوگ محبت کرنے والے

Verses

چپکے چپکے جل جاتے ہيں لوگ محبت کرنے والے
پروا سنگ نکل جاتے ہيں لوگ محبت کرنے والے

آنکھوں آنکھوں چل پڑتے ہيں تاروں کي قنديل لئے
چاند کے ساتھ ہي ڈھل جاتے ہيں لوگ محبت کرنے والے

دل ميں پھول کھلا ديتے ہيں لوگ محبت کرنے والے
آگ ميں راگ جگاتے ديتے ہيں لوگ محبت کرنے والے

پاني بيچ بتاشہ صورت خود تو گھستے رہتے ہيں
سم کو شہد بناديتے ہيں لوگ محبت کرنے والے

خواب خوشي کے پوجاتے ہيں لوگ محبت کرنے والے
زخم دلوں کے دھو جاتے ہيں لوگ محبت کرنے والے

تتلي تتلي لہراتے ہيں پھولوں کي اميد ليے
اک دن خوشبو ہو جاتے ہيں لوگ محبت کرنے والے

بن جاتے ہيں نقش وفا کا لوگ محبت کرنے والے
جھونکا ہيں بے چين ہوا کا لوگ محبت کرنے والے

جلي ہوئي دھرتي پہ جيسے بادل گھر آئيں
بستي پر ہيں فضل خدا کا لوگ محبت کرنے والے

آنکھوں کا رنگ، بات کا لہجہ بدل گیا

Verses

آنکھوں کا رنگ، بات کا لہجہ بدل گیا
وہ شخص ایک شام میں کتنا بدل گیا

کُچھ دن تو میرا عکس رہا آئینے پہ نقش
پھر یوں ہُوا کہ خُود مِرا چہرا بدل گیا

جب اپنے اپنے حال پہ ہم تم نہ رہ سکے
تو کیا ہوا جو ہم سے زمانہ بدل گیا

قدموں تلے جو ریت بچھی تھی وہ چل پڑی
اُس نے چھڑایا ہاتھ تو صحرا بدل گیا

کوئی بھی چیز اپنی جگہ پر نہیں رہی
جاتے ہی ایک شخص کے کیا کیا بدل گیا!

اِک سر خوشی کی موج نے کیسا کیا کمال!
وہ بے نیاز، سارے کا سارا بدل گیا

اٹھ کر چلا گیا کوئی وقفے کے درمیاں
پردہ اُٹھا تو سارا تماشا بدل گیا

حیرت سے سارے لفظ اُسے دیکھتے رہے
باتوں میں اپنی بات کو کیسا بدل گیا

کہنے کو ایک صحن میں دیوار ہی بنی
گھر کی فضا، مکان کو نقشہ بدل گیا

شاید وفا کے کھیل سے اُکتا گیا تھا وہ
منزل کے پاس آکے جو رستہ بدل گیا

قائم کسی بھی حال پہ دُنیا نہیں رہی
تعبیرکھو گئی، کبھی سَپنا بدل گیا

منظر کا رنگ اصل میں سایا تھا رنگ کا
جس نے اُسے جدحر سے بھی دیکھا بدل گیا

اندر کے موسموں کی خبر اُس کی ہوگئی!
اُس نو بہارِ ناز کا چہرا بدل گیا

آنکھوں میں جتنے اشک تھے جگنو سے بن گئے
وہ مُسکرایا اور مری دُنیا بدل گیا

اپنی گلی میں اپنا ہی گھر ڈھو نڈتے ہیں لوگ
امجد یہ کو ن شہر کا نقشہ بدل گیا

ہر شخص کی خُوں رنگ قبا ہے کہ نہیں ہے

Verses

ہر شخص کی خُوں رنگ قبا ہے کہ نہیں ہے
یہ قتل گہہِ اہلِ وفا ہے کہ نہیں ہے

محرومِ جواب آتی ہے فریاد فلک سے
ان ظلم نصیبوں کا خُدا ہے کہ نہیں ہے

اے قریۂبے خواب ِ تمنا کے مکینو
اس راہ کا اُس کو بھی پتا ہے کہ نہیں ہے

اک ریت کا دریا سا ادھر بھی ہے اُدھر بھی
صحرائے محبت کا سرا ہے کہ نہیں ہے

آنکھوں کے لئے خواب ہیں شبنم کے لئے پھول
ہر چیز یہاں رشتہ بپا ہے کہ نہیں ہے

اک نسل کی تعزیر سہیں دوسری نسلیں
اے منصفِ بر حق یہ ہوا ہے کہ نہیں ہے

بے رنگ ہوئے جاتے ہیں آنکھوں کے جزیرے
طوفان کی یہ آب و ہوا ہے کہ نہیں ہے

امجد جو رکا اس کی صدا پر نہ چلا پھر
انسان کا دل کوہِ ندا ہے کہ نہیں ہے

پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم

Verses

پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم
دونوں ہی کو امجد ہم نے بچتے دیکھا کم

تاریکی کے ہاتھ پہ بیعت کرنے والوں کا
سُورج کی بس ایک کِرن سے گھُٹ جاتا ہے دَم

رنگوں کو کلیوں میں جینا کون سکھاتا ہے!
شبنم کیسے رُکنا سیکھی! تِتلی کیسے رَم!

آنکھوں میں یہ پَلنے والے خواب نہ بجھنے پائیں
دل کے چاند چراغ کی دیکھو‘ لَو نہ ہو مدّھم

ہنس پڑتا ہے بہت زیادہ غم میں بھی انساں
بہت خوشی سے بھی تو آنکھیں ہو جاتی ہیں نم