لوک گیتوں کا نگر یاد آیا

Verses

لوک گیتوں کا نگر یاد آیا
آج پردیس میں گھر یاد آیا

جب چلے آئے چمن زار سے ہم
التفاتِ گُلِ تر یاد آیا

تیری بیگانہ نگاہی سرِ شام
یہ ستم تابہ سحر یاد آیا

ہم زمانے کا ستم بھول گئے
جب ترا لطفِ نظر یاد آیا

تو بھی مسرور تھا اُس شب سرِ بزم
اپنے شعروں کا اثر یاد آیا

پھر ہوا دردِ تمنّا بیدار
پھر دلِ خاک بسر یاد آیا

ہم جسے بھول چُکے تھے جالب
پھر وہی راہ گزر یاد آیا

ہم نے سنا تھا صحن چمن میں کیف کے بادل چھائے ہیں

Verses

ہم نے سنا تھا صحن چمن میں کیف کے بادل چھائے ہیں
ہم بھی گئے تھے جی بہلانے اشک بہا کر آئے ہیں

پھول کھلے تو دل مرجھائے شمع جلے تو جان جلے
ایک تمہارا غم اپنا کر کتنے غم اپنائے ہیں

ایک سلگتی یاد چمکتا درد فروزاں تنہائی
پوچھو نہ اس کے شہر سے ہم کیا کیا سوغاتیں لائے ہیں

سوئے ہوئے جو درد تھے دل میں‌آنسو بن کر بہہ نکلے
رات ستاروں کی چھاؤں میں یاد وہ کیا کیا آئے ہیں

آج بھی سورج ڈوب گیا بے نور افق کے ساگر میں
آج بھی پھول چمن میں تجھ کو بن دیکھے مرجھائے ہیں

ایک قیامت کا سناٹا ایک بلا کی تاریکی
ان گلیوں سے دور نہ ہنستا چاند نہ روشن سائے ہیں

پیار کی بولی بول نہ جالب اس بستی کے لوگوں سے
ہم نے سکھ کی کلیاں کھو کر دکھ کے کانٹے پائے ہیں

محبت کی رنگینیاں چھوڑ آئے

Verses

محبت کی رنگینیاں چھوڑ آئے
ترے شہر میں اک جہاں چھوڑ آئے

پہاڑوں کی وہ مست و شاداب وادی
جہاں ہم دل ِنغمہ خواں چھوڑ آئے

وہ سبزہ، وہ دریا، وہ پیڑوں کے سائے
وہ گیتوں بھری بستیاں چھوڑ آئے

حسیں پنگھٹوں کا وہ چاندی سا پانی
وہ برکھا کی رت، وہ سماں چھوڑ آئے

بہت دور ہم آگئے اس گلی سے
بہت دور وہ آستاں چھوڑ آئے

بہت مہرباں تھیں وہ گلپوش راہیں
مگر ہم انہیں مہرباں ، چھوڑ آئے

بگولوں کی صورت یہاں پھر رہے ہیں
نشیمن سر ِگلستاں چھوڑ آئے

یہ اعجاز ہے حسن ِآوارگی کا
جہاں بھی گئے، داستاں چھوڑ آئے

چلے آئے ان رہگزاروں سے جالب
مگر ہم وہاں قلب و جاں چھوڑ آئے

پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے

Verses

پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے
ہم ترا شہر چھوڑ جائیں گے

دور افتادہ بستیوں میں کہیں
تیری یادوں سے لو لگائیں گے

شمع ِماہ و نجوم گل کرکے
آنسوؤں کے دیئے جلائیں گے

آخری بار اک غزل سن لو
آخری بار ہم سنائیں گے

صورت ِموج ِہوا جالب
ساری دنیا کی خاک اڑائیں گے

دل کی بات لبوں پر لاکر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

Verses

دل کی بات لبوں پر لاکر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں
ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں

بیت گیا ساون کا مہینہ،موسم نے نظریں بدلیں
لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں

ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں
دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں

جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا ،جن کے لیے بدنام ہوئے
آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں

وہ جو ابھی اس راہ گزر سے چاک گریباں گزرا تھا
اس آوارہ دیوانے کو جالب جالب کہتے ہیں

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم

Verses

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم

مدّت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے
آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم

شاید بقیدِ زیست یہ ساعت نہ آسکے
تم داستانِ شوق سنو اور سنائیں ہم

بے نور ہوچکی ہے بہت شہر کی فضا
تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم

اُس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے
جالب چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم

نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں

Verses

نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں
چراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میں

کسے لگائے گلے اور کہاں کہاں ٹھہرے
ہزار غنچہ و گُل ہیں صبا کے رستے میں

خدا کا نام کوئی لے تو چونک اٹھتے ہیں
ملےہیں ہم کو وہ رہبر خدا کے رستے میں

کہیں سلاسلِ تسبیح کہیں زناّر
بچھے ہیں دام بہت مُدعا کے رستے میں

ابھی وہ منزلِ فکر و نظر کہاں آئی
ہے آدمی ابھی جرم و سزا کے رستے میں

ہیں آج بھی وہی دار و رسن وہی زنداں
ہر اِک نگاہِ رموز آشنا کے رستے میں

یہ نفرتوں کی فصیلیں جہالتوں کے حصار
نہ رہ سکیں گے ہماری صدا کے رستےمیں

مٹا سکے نہ کوئی سیلِ انقلاب جنہیں
وہ نقش چھوڑے ہیں ہم نے وفا کے رستے میں

زمانہ ایک سا جالب سدا نہیں رہتا
چلیں گے ہم بھی کبھی سر اُٹھا کے رستے میں

ادھ کھلی آنکھوں میں ٹھہری منظروں کی آرزو

Verses

ادھ کھلی آنکھوں میں ٹھہری منظروں کی آرزو
اندھے رستے کر رہے ہیں منزلوں کی آرزو

توڑ کر مٹی میری دوبارہ کیوں گوندھی گئی
کر رہا ہے یہ جہان کن صورتوں کی آرزو

آسماں پر ابر کا ہلکا سا بھی ٹکڑا نہیں
خشک مٹی کر رہی ہے بارشوں کی آرزو

پھر میرا ذوقِ تخیل بھی مجسم ہو گیا
پھر ہوئی ذوقِ سفر کو قافلوں کی آرزو

اک عجب منظر میری پیشِ نظر ہے آج کل
پیار کی دہلیز پر ہے نفرتوں کی آرزو

جب زمیں و آسماں آپس میں مل سکتے نہیں
کر رہی ہے خاکِ پا کیوں رفعتوں کی آرزو

حلقۂ گرداب میں شہناز اک مدت سے ہے
دائروں کے باسیوں کو ساحلوں کی آرزو

کانچ کا شہر ہے اور لوگ ہیں پتھر سارے

Verses

کانچ کا شہر ہے اور لوگ ہیں پتھر سارے
ہاتھ میں تیشہ لئے پھرتے ہیں رہبر سارے

چشم پوشی کا سلیقہ ہی سکھا دے مجھ کو
زخمی کر دیتے ہیں احساس کے نشتر سارے

عہدِ رفتہ کی اسیری سے رہائی دے مجھے
یا بدل ڈال میری سوچ کے محور سارے

ہے تمنا تجھے دنیا کی تو بیچ اپنا ضمیر
اہلِ دل، اہلِ نظر رہتے ہیں بے گھر سارے

کعبۂ دل رہے آباد دعا کرنا شہناز
اور اب توڑ دے اغیار کے مندر سارے

ہم تیز ہواؤں کے ارادے نہیں سمجھے

Verses

ہم تیز ہواؤں کے ارادے نہیں سمجھے
بدلے ہوئے موسم کے تقاضے نہیں سمجھے

کیوں سر کو پٹختی رہیں موجیں لبِ دریا
سلگے ہوئے ساحل کے کنارے نہیں سمجھے

خیرہ نہیں کرتے یہ جلاتے ہیں نشیمن
بدلی میں چھپے شوخ شرارے نہیں سمجھے

اے خاکِ بدن! شعلۂ جاں بجھنے لگا ہے
کیوں دیدہء حیراں کے اشارے نہیں سمجھے

ہے کتنا کٹھن درد کے صحرا سے گزرنا
یہ بات مقدر کے ستارے نہیں سمجھے