ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی

Verses

ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی

مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی

اس رات دیر تک رھا وہ محو گفتگو
مصروف میں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی

مجھ سے بچھڑ کر شہر میں گھل مل گیا وہ شخص
حالانکہ شہر بھر سے عداوت اسے بھی تھی

وہ مجھ سے بڑھ کر ضبط کر عادی تھا جی گیا
ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی

سنتا تھا وہ بھی سب سے پرانی کہانیاں
شاید رفاقتوں کی ضرورت اسے بھی تھی

تنہا ھوا سفر میں تو مجھ پر کھلا یہ بھید
سائے سے پیار دھوپ سے نفرت اسے بھی تھی

"محسن"میں اسے کہہ نہ سکا یوں بھی حال دل
درپیش ایک تازہ مصیبت اسے بھی تھی

بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں

Verses

بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں
صحرا میرا چہرہ ھے سمندر تیری آنکھیں

پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا
روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تیری آنکھیں

خالی جو ہوئی شام غریباں کی ہتھیلی
کیا کیا نہ لٹاتی رہیں گوھر تیری آنکھیں

بوجھل نظر آتی ہیں بظاھر مجھے لیکن
کھلتی ھیں بہت دل میں اتر کر تیری آنکھیں

اب تک میری یادوں سے مٹائے نھیں مٹتا
بھیگی ھوئی اک شام کا منظر تیری آنکھیں

ممکن ھو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں
پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تیری آنکھیں

میں سنگ صفت ایک ہی رستے میں کھڑا ھوں
شاید مجھے دیکھیں گی پلٹ کر تیری آنکھیں

یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں"محسن"
وہ کانچ کا پیکر ھے تو پتھر تیری آنکھیں

لٹتے کہاں کہ صاحب جاگیر ہم نہ تھے

Verses

لٹتے کہاں کہ صاحب جاگیر ہم نہ تھے
نور جہاں نہ تھی وہ،شاہ جہاں ہم نہ تھے

اپنی دعا سے ماند نہ پڑتا کسی کا حسن
اتنے بڑے تو صاحب تاثیر ہم نہ تھے

ملتا رھا وہ خواب میں کتنے خلوص سے
آنکھیں کھلیں تو خواب کی تعبیر ہم نہ تھے

ہم کو نہ دے پیام رہائی،ہوائے صبح
وجہ خروش خانہ زنجیر ہم نہ تھے

ہر دور بے صدا میں ہر ایک ظلم کے خلاف
ہم کو ہی بولنا تھا کہ تصویر ہم نہ تھے

سب اہل شہر پھر در دشمن پہ جھک گئے
"محسن"کھلا کہ شہر کی تقدیر ہم نہ تھے

تجھے اداس بھی کرنا تھا خود بھی رونا تھا

Verses

تجھے اداس بھی کرنا تھا خود بھی رونا تھا
یہ حادثہ بھی میری جان کبھی ہونا تھا

نمو کا رنج نہ ابر گریز پا کا ملال
کہ مجھ کو بانجھ زمینوں میں بیج بونا تھا

یہ کیا کہ گرد راہ رفتگاں کو اوڑھ لیا
کفن کا داغ بدن کے لہو سے دھونا تھا

جو داستاں اسے کہنا تھی پھر نا گفتہ رہی
کہ میں بھی تھک سا گیا تھا،اسے بھی سونا تھا

میں تخت ابر پر سویا تھا رات بھر"محسن"
کھلی جو آنکھ تو صحرا میرا بچھونا تھا

ہمارے بعد چلی رسم دوستی کہ نہیں؟

Verses

ہمارے بعد چلی رسم دوستی کہ نہیں؟
ہوا کی زد میں کوئی شمع پھر جلی کہ نہیں؟

بچھڑ کے جب بھی ملے مجھ سے،پوچھتا ھے وہ شخص
کہ ان دنوں کوئی تازہ غزل ہوئی کہ نہیں؟

سنا ھے عام تھی کل شب کو چاند کی بخشش
بجھے گھروں میں بھی اتری ھے چاندنی کہ نہیں؟

نکل کے جس سے ہوا درد اپنا آوارہ
کسی کے دل میں وہ محفل بھی پھر سجی کہ نہیں؟

وہ رہگزر جو اندھیروں میں سانس لیتی تھی
تمہارے نقش قدم سے چمک اٹھی کہ نہیں؟

دیار ہجر سے آئے ہو کچھ کہو"محسن"
کہ شام غم بھی کسی موڑ پر ملی کہ نہیں؟

کہاں یہ بس میں کہ ہم خود کو حوصلہ دیتے

Verses

کہاں یہ بس میں کہ ہم خود کو حوصلہ دیتے
یہی بہت تھا کہ ہر غم پہ مسکرا دیتے

ہوا کی ڈور الجھتی جو انگلیوں سے کبھی
ہم آسماں پہ تیرا نام تک سجا دیتے

ہمارے عکس میں ھوتی جو زخم دل کی جھلک
ہم آئینے کو بھی اپنی طرح رلا دیتے

ہمیں بھی روشنیوں پر جو دسترس ھوتی
کبھی چراغ جلاتے،کبھی بجھا دیتے

ہمارے پاؤں ہواؤں کی زد میں تھے ورنہ
گزرتی عمر کو رک رک کر صدا دیتے

اب اس کی یاد سے اس کا بدن تراشتے ہیں
وہ خواب بھی تو نہیں تھا کہ ہم بھلا دیتے

اسی کے واسطے"محسن"کہی ھے تازہ غزل
ہم اس کی سالگرہ پر اب اور کیا دیتے؟

روٹھا تو شہر خواب کو غارت بھی کر گیا

Verses

روٹھا تو شہر خواب کو غارت بھی کر گیا
پھر مسکرا کے تازہ شرارت بھی کر گیا

شاید اسے عزیز تھیں آنکھیں میری بہت
وہ میرے نام اپنی بصارت بھی کر گیا

منہ زور آندھیوں کی ہتھیلی پہ اک چراغ
پیدا میرے لہو میں حرارت بھی کر گیا

بوسیدہ بادبان کا ٹکڑا،ھوا کے ساتھ
طوفاں میں کشتیوں کی سفارت بھی کر گیا

دل کا نگر اجاڑنے والا ھنر شناس
تعمیر حوصلوں کی عمارت بھی کر گیا

سب اھل شھر جس پر اٹھاتے تھے انگلیاں
وہ شہر بھر کو وجہ زیارت بھی کر گیا

محسن یہ دل کہ اس سے بچھڑتا نہ تھا کبھی
آج اس کو بھولنے کی جسارت بھی کر گیا

انا پہ چوٹ پڑے بھی تو کون دیکھتا ھے؟

Verses

انا پہ چوٹ پڑے بھی تو کون دیکھتا ھے؟
دھواں سا دل سے اٹھے بھی تو کون دیکھتا ھے؟

میرے لیے کبھی مٹی پہ سردیوں کی ھوا
تمھارا نام لکھے بھی تو کون دیکھتا ھے؟

اجاڑ گھر کے کسی بے صدا دریچے میں
کوئی چراغ جلے بھی تو کون دیکھتا ھے؟

ھجوم شہر سے ہٹ کر،حدود شہر کے بعد
وہ مسکرا کے ملے بھی تو کون دیکھتا ھے؟

جس آنکھ میں کوئی چہرہ،نہ کوئی عکس طلب
وہ آنکھ جل کے بجھے بھی تو کون دیکھتا ھے؟

ہجوم درد میں کیا مسکرائیے کہ یہاں
خزاں میں پھول کھلے بھی تو کون دیکھتا ھے؟

ملے بغیر جو مجھ سے بچھڑ گیا محسن
وہ راستے میں رکے بھی تو کون دیکھتا ھے؟

راہ وفا میں اذیت شناسائیاں نہ گئیں

Verses

راہ وفا میں اذیت شناسائیاں نہ گئیں
کسی بھی رت میں ھماری اداسیاں نہ گئیں

تنی ھے ابر کی چادر بھی آسماں پہ مگر
شعاع مہر تیری بے لباسیاں نہ گئیں

تیرے قریب بھی رہ کر تجھے تلاش کروں
محبتوں میں میری بد حواسیاں نہ گئیں

خدا خبر کہاں کنجوں کے قافلے اترے؟
سمندر کی طرف بھی تو پیاسیاں نہ گئیں

خزاں میں بھی تو مہکتی غزل پہن کے ملا
مزاج یار تیری خوش لباسیاں نہ گئیں

بسنت رت میں بھی مندر اداس تھے"محسن"
کہ دیوتاؤں سے ملنے کو داسیاں نہ گئیں

وہ بھی کیا دن تھے کہ پل میں کر دیا کرتے تھے ہم

Verses

وہ بھی کیا دن تھے کہ پل میں کر دیا کرتے تھے ہم
عمر بھر کی چاھتیں ہر ایک ھرجائی کے نام

وہ بھی کیا موسم تھے جن کی نکہتوں کے ذائقے
لکھ دیا کرتے تھے خال و خد کی رعنائی کے نام

وہ بھی صحبتیں تھیں جن کی مسکراھٹ کے فسوں
وقف تھے اہل وفا کی بزم آرائی کے نام

وہ بھی کیا شامیں تھیں جن کی شہرتیں منسوب تھیں
بے سبب کھلے ھوئے بالوں کی رسوائی کے نام

اب کے وہ رت ھے کہ ہر تازہ قیامت کا عذاب
اپنے جاگتے زخموں کی گہرائی کے نام

اب کے اپنے آنسوؤں کے سب شکستہ آئینے
کچھ زمانے کے لیے،کچھ تنہائی کے نام