جس کی قسمت ہی در بدر ٹھہرے

Verses

جس کی قسمت ہی در بدر ٹھہرے
وہ بجھا چاند کس کے گھر ٹھہرے

عمر گذری سنوارتے دل کو
کاش وہ دل میں لمحہ بھر ٹھہرے

اس سے کیا پوچھنا سفر کی تھکن
جس کی منزل ھی رھگزر ٹھہرے

اس کی قیمت عذاب سورج کا
وہ ستارہ جو تا سحر ٹھہرے

اس کی آنکھیں ادھر گئیں ھی نھیں
لوگ کیا کیا نہ موڑ پر ٹھہرے

ہم سے کیسا حذر ہوائے سفر
ھم تو گرد راہ سفر ٹھہرے

جھک کے چومے نہ کیوں فلک"محسن"
جب سناں پر کسی کا سر ٹھہرے

جب تیری دھن میں جیا کرتے تھے

Verses

جب تیری دھن میں جیا کرتے تھے
ہم بھی چپ چاپ پھرا کرتے تھے

آنکھ میں پیاس ھوا کرتی تھی
دل میں طوفان اٹھا کرتے تھے

لوگ آتے تھے غزل سننے کو
ہم تیری بات کیا کرتے تھے

سچ سمجھتے تھے تیرے وعدوں کو
رات دن گھر میں رہا کرتے تھے

کسی ویرانے میں تجھ سے مل کر
دل میں کیا پھول کھلا کرتے تھے

گھر کی دیوار سجانے کے لیے
ہم تیرا نام لکھا کرتے تھے

وہ بھی دن تھے بھلا کر تجھ کو
ہم تجھے یاد کیا کرتے تھے

جب تیرے درد میں دل دکھتا تھا
ہم تیرے حق میں دعا کرتے تھے

بجھنے لگتا جو چہرہ تیرا
داغ سینے میں جلا کرتے تھے

اپنے جذبوں کی کمندوں سے تجھے
ہم بھی تسخیر کیا کرتے تھے

اپنے آنسو بھی ستاروں کی طرح
تیرے ہونٹوں پہ سجا کرتے تھے

چھیڑتا تھا غم دنیا جب بھی
ہم تیرے غم سے گلہ کرتے تھے

کل تجھے دیکھ کے یاد آیا ھے
ہم سخنور بھی ہوا کرتے تھے

شکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیں

Verses

شکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیں
مجھے وعدوں کی خالی سیپیاں اچھی نہیں لگتیں

گذشتہ رت کے رنگوں کا اثر دیکھو کہ اب مجھ کو
کھلے آنگن میں اڑتی تتلیاں اچھی نہیں لگتیں

وہ کیا اجاڑ نگر تھا جس کی چاہت کے سبب اب تک
ہری بیلوں سے الجھی ٹہنیاں اچھی نہیں لگتیں

دبے پاؤں ہوا جن کے چراغوں سے بہلتی ھو
مجھے ایسے گھروں کی کھڑکیاں اچھی نہیں لگتیں

بھلے لگتے ھیں طوفانوں سے لڑتے بادبان مجھ کو
ھوا کے رخ پہ چلتی کشتیاں اچھی نہیں لگتیں

یہ کہہ کر آج اس سے بھی تعلق توڑ آیا ھوں
میری جاں مجھ کو ضدی لڑکیاں اچھی نہیں لگتیں

کسی گھر میں رسن بستہ رھیں جو رات دن"محسن'
مجھے اکثر وہ سہمی ہرنیاں اچھی نہیں لگتیں

جس کو اکثر سوچا تھا تنہائی میں

Verses

جس کو اکثر سوچا تھا تنہائی میں
شامل ھے وہ شخص میری رسوائی میں

مجھ سے مت پوچھو وہ چہرہ کیسا تھا؟
ڈوب گیا میں آنکھوں کی گہرائی میں

جاگتے رھنے کی کتنی ترغیبیں تھیں
اس کی بوجھل تھکی ھوئی انگڑائی میں

تجھ سے آنکھ ملانا کتنا مشکل ھے
ورنہ سورج گھل جائیں بینائی میں

پیار بھی کرتا ھے وہ بے پروائی سے
نادانی کا رنگ بھی ھے دانائی میں

وہ اک پل کو روٹھا تو محسوس ھوا
جیسے بیت گیا ایک سال جدائی میں

جاؤ اپنے جیسے لوگ تلاش کرو
کیا پاؤ گے"محسن"سے ہرجائی میں

وہ بظاھر جو زمانے سے خفا لگتا ھے

Verses

وہ بظاھر جو زمانے سے خفا لگتا ھے
ہنس کر بولے بھی تو دنیا سے جدا لگتا ھے

اور کچھ دیر نہ بجھنے دے اسے رب سحر
ڈوبتا چاند میرا دست ہنر لگتا ھے

جس سے منہ پھیر کے رستے کی ھوا گزری ھے
کسی اجڑے ھوئے آنگن کا دیا لگتا ھے

اب کے ساون میں بھی زردی نہ گئی چہروں کی
ایسے موسم میں تو جنگل بھی ہرا لگتا ھے

شہر کی بھیڑ میں کھلتے ھیں کہاں اس کے نقوش
آؤ تنھائی میں سوچیں کہ وہ کیا لگتا ھے

منہ چھپائے ھوئے گزرا ھے جو احباب سے آج
اس کی آنکھوں میں بھی کوئی زخم نیا لگتا ھے

اب تو"محسن" کے تصور میں اتر رب جلیل
اس اداسی میں تو پتھر بھی خدا لگتا ھے

آنکھوں میں کوئی خواب اترنے نہیں دیتا

Verses

آنکھوں میں کوئی خواب اترنے نہیں دیتا
یہ دل کہ مجھے چین سے مرنے نہیں دیتا

بچھڑے تو عجب پیار جتاتا ھے خطوں میں
مل جائے تو پھر حد سے گزرنے نہیں دیتا

وہ شخص خزاں رت میں بھی محتاط ھے کتنا
سوکھے ھوئے پھولوں کو بکھرنے نہیں دیتا

اک روز تیری پیاس خریدے گا وہ گھبرو
پانی تجھے پنگھٹ سے جو بھرنے نہیں دیتا

وہ دل میں تبسم کی کرن گھولنے والا
روٹھے تو رتوں کو بھی سنورنے نہیں دیتا

میں اس کو مناؤں کہ غم دھر سے الجھوں
"محسن" وہ کوئی کام بھی مجھے کرنے نہیں دیتا

ہجر کی شام دھیان میں رکھنا

Verses

ہجر کی شام دھیان میں رکھنا
ایک دیا بھی مکان میں رکھنا

آئینے بچھانے آئے ھو
چند پتھر دکان میں رکھنا

اے زمیں حشر میں بھی ماں کی طرح
مجھ کو اپنی امان میں رکھنا

تیر پلٹے تو دل نہ زخمی ھو
یہ ہنر بھی کمان میں رکھنا

ایک دنیا یقیں سے روشن ھو
ایک عالم گمان میں رکھنا

خود پہ جب بھی غزل سنو مجھ سے
آئینہ درمیاں میں رکھنا

دل سے نکلے نہ یاد قاتل کی
یہ شکاری مچان میں رکھنا

جب زمیں کی فضا نہ راس آئے
آسماں کو اڑان میں رکھنا

مرثیہ جب لکھو بہاروں کا
زخم کوئی زبان میں رکھنا

خود بھی وہموں کے جال میں رہنا
اس کو بھی امتحان میں رکھنا

اتنی رسوائیاں بھی کیا"محسن"؟
کچھ بھرم تو جہان میں رکھنا

عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے

Verses

عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
میں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے

کھنڈر کی تہ سے بریدہ بدن سروں کے سوا
ملا نہ کچھ بھی خزانوں کی آرزو کر کے

سنا ھے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ھے
چلیں ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے

مسافت شب ہجراں کے بعد بھید کھلا
ہوا دکھی ھے چراغوں کو بے آبرو کر کے

زمیں کی پیاس اسی کے لہو کو چاٹ گئی
وہ خوش ہوا تھا سمندر کو آب جو کر کے

یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے

جلوس اہل وفا کس کے در پہ پہنچا ھے
نشان طوق وفا زینت گلو کر کے

اجاڑ رت کو گلابی بنائے رکھتی ھے
ہماری آنکھ تیری دید سے وضو کر کے

کوئی تو حبس ہوا سے یہ پوچھتا"محسن"
ملا ہے کیا اسے کلیوں کو بے نمو کر کے

کھنڈر آنکھوں میں غم آباد کرنا

Verses

کھنڈر آنکھوں میں غم آباد کرنا
کبھی فرصت ملے تو یاد کرنا

اذیت کی ہوس بجھنے لگی ھے
کوئی تازہ ستم ایجاد کرنا

کئی صدیاں پگھلنے کا عمل ھے
بدن سے روح کو آزاد کرنا

ابھی کیسی پرستش بجلیوں کی
ابھی گھر کس لیے برباد کرنا

تمھارا جھوٹ سچ سے معتبر ہے
میرے حق میں بھی کچھ ارشاد کرنا

عجب ہے دھوپ چھاؤں ہجرتوں کی
کبھی ھنسنا کبھی فریاد کرنا

جہنم جلنے سے بھی کٹھن ھے
انا کو خوگر بیدار کرنا

کبھی پتھر سے سر ٹکڑا کے محسن
ادا قرض سر فرھاد کرنا

اس کی چاہت کا بھرم کیا رکھنا؟

Verses

اس کی چاہت کا بھرم کیا رکھنا؟
دشت ہجراں میں قدم کیا رکھنا؟

اپنے جیسا کوئی ملتا ہی نھیں
آنکھ میں دولت غم کیا رکھنا؟

بات چپ رہ کر بھی ہو سکتی ھے
پاس قرطاس و قلم کیا رکھنا؟

آؤ کشکول کو نیلام کریں
قرض ارباب کرم کیا رکھنا؟

فکر آرائش مقتل میں رہو
مہر میزان علم کیا رکھنا؟

اس کی یادوں کو غنیمت جانو
اس تعلق کو تو کم کیا رکھنا؟

ہنس بھی لینا کبھی خود پہ محسن
ہر گھڑی آنکھ کو نم کیا رکھنا؟